Loading
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر بات کرنی چاہیے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ڈوریں سرحد پار سے ہلائی جا رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات کے حل کے لیے وزیراعظم کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کے سامنے 38 مطالبات پیش کیے گئے، جن میں سے 35 کو تسلیم کر لیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کرلیے گئے تھے اور آزاد کشمیر میں عوام کو 3 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی منعقد کی گئی، بہتر ہوتا اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی قیادت ایوان میں تقاریر کرنے کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کرتی۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کشمیر پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اتفاق رائے اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا الیکشن پر اعتراض بلاجواز ہے، سوشل میڈیا کے دور میں الیکشن دھاندلی ممکن نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل