Loading
یوکرینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ روس ٹیلیگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان یوکرینی لڑکیوں کو بھرتی کر رہے ہیں تاکہ وہ یوکرینی فوجیوں سے تعلقات قائم کر کے انہیں منشیات یا زہریلے مادوں کا عادی بنائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی پولیس نے بتایا کہ کم از کم 6 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں فوجی اہلکاروں کو سوشل میڈیا یا ڈیٹنگ پروفائلز کے ذریعے ملاقات کے لیے بلایا گیا۔
پولیس چیف ایوان ویہیوسکی نے کہا کہ نوجوان لوگ روسی بھرتی کاروں کا بڑا ہدف ہیں۔ لڑکیوں کو مالی فائدے، کرایہ، الکحل یا دیگر اخراجات کے وعدوں پر بھرتی کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون میں 17 سالہ لڑکی کو ایک یوکرینی فوجی کو زہریلا مشروب پلانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یوکرینی سیکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کو ابتدا میں جلدی پیسہ کمانے کی پیشکشوں کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح ایک 26 سالہ خاتون پر بھی ایک فوجی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی مقصد فوجی کے فون تک رسائی حاصل کرنا تھا تاہم وہ مبینہ طور پر زہر دینے کے چند گھنٹوں بعد ہلاک ہو گیا۔
یوکرین کے پولیس چیف ویہیوسکی نے کہا کہ یہ منصوبہ بند قتل ہیں جنھیں حملہ آور ریاست کی خفیہ سروسز یوکرینی شہریوں کے ذریعے انجام دلوانا چاہتی ہیں۔
یہ تمام الزامات یوکرینی حکام اور مقامی میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ روسی حکومت کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی آزادانہ تصدیق یا باضابطہ تردید اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل