Wednesday, June 10, 2026
 

مذاکرات، مسئلے کا فوری حل

 



آزادکشمیر میں بدامنی پھیلانے کی کوشش ہوئی ہے۔ جوابی اقدام کے طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قراردے دیا گیا ہے۔ کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں تاہم اس کالعدم کمٹی کے مرکزی لیڈر تاحال مفرور ہیں۔ ادھر آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے صدر آزاد کشمیر کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے آئین کے تحت پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی 12 نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور صرف ایک آئینی ترمیم کے تحت ہی ان نشستوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم لیگ کے مخالفین کا استدلال ہے کہ کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ان بیانات سے کہ پنجاب کی 8نشستیں ان کی جیب میں ہیں، اس تاثر کو تقویت دی ہے ۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے ایک انٹرویو میں بھی یہی بات کی ہے۔ ادھرآزاد کشمیر کے ایک سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی، قانونی اور اخلاقی ہے۔منظور گیلانی نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین اس وقت پاکستان کے شہری ہیں، ان کی نسبت کشمیر سے ہے۔ منظور گیلانی نے کہا کہ یہ مطالبہ نیا نہیں ہے۔ ایک سیاسی مبصر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کئی دفعہ اور تحریک انصاف ایک دفعہ آزاد کشمیر میں برسراقتدار رہی مگر تحریک انصاف میں بھی وہی رہنما تھے جو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے تھے۔ یہ تمام جماعتیںکی کامیابی میں پاکستان میں آزادکشمیر کی 12 نشستوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ سابق صدر پرویز مشرف کی سرپرستی میں ایم کیو ایم نے بھی سندھ سے کامیابی حاصل کی تھی اور ایم کیو ایم کے کامیاب امیدوار مظفرآباد کی حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ ایک صحافی نے کشمیر کی صورتحال کا تجزیہ یوں کیا ہے کہ کشمیر میں 46 لاکھ آبادی رجسٹرڈ ہے جس میں سے 34 لاکھ ووٹر ہیں اور پورے کشمیر میں 33 انتخابی حلقے ہیں، یوں اوسطاً ایک حلقہ ایک لاکھ ووٹر پر مشتمل ہے جب کہ پاکستان میں آباد کشمیریوں کی تعداد 25 لاکھ ہے، ان میں سے 4 لاکھ ووٹر ہیں۔ کشمیر میں آباد 450ووٹر پاکستان میں رجسٹرڈ ایک مہاجر ووٹر کے برابر ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی آزادکشمیر کی نشستوں میں سے ایک امیدوار 432 ووٹ لے کر منتخب ہو جاتا ہے اور وزیر بھی بنتا ہے۔ آزادکشمیر پاکستان کے چاروں صوبوں سے زیادہ خوشحال ہے۔ اس کی آبادی 4.46 ملین کے قریب ہے۔ کشمیر میں مردوں میں خواندگی کا تناسب 88.9 فیصد ہے اور خواتین میں یہ تناسب 68.2 فیصد ہے۔ غربت کا تناسب (Absolute Poverty Estimate)تقریباً 18فیصد کے قریب ہے، جب کہ Multidimensional Estimates غربت کا تناسب 25 سے 40 فیصد کے قریب ہے۔ اس خطے میں بے روزگاری کی سطح 10.3فیصد کے قریب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1.6 ملین کشمیری برطانیہ میں آباد ہیں۔ دیگر یورپی ممالک میں بھی کشمیری باشندے مستقل بنیادوں پر مقیم ہیں۔ برطانیہ میں کشمیری نژاد کئی سیاست دان لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر سال بھاری سرمایہ کشمیر میں مقیم اپنے عزیزوں کو بھیجتے ہیں۔ کشمیری پاکستان کی سول بیوروکریسی اور مسلح افواج میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اسی طرح وکلاء، ججوں اور سیاست دانوں میں سے کئی کا تعلق پاکستان کے آزاد کشمیر سے ہے۔ ریاست جموں وکشمیر گزشتہ صدی تک ڈوگرہ راج میں رہی ۔ کشمیری رہنما شیخ محمد عبداﷲ نے 1932ء میں آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس قائم کی تھی۔ اے جے کے ایم سی نے ڈوگرہ راج کے خلاف تاریخی لڑائی لڑی۔ چوہدری غلام عباس نے 1941ء میں مسلم کانفرنس کو شیخ عبداﷲ کی مسلم کانفرنس سے علیحدہ جماعت بنالی۔ چوہدری غلام عباس کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے زبردست حامی تھے۔ شیخ عبداﷲ نے اپنی جماعت کا نام جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس رکھا تھا۔ غلام عباس کے بعد سردار عبدالقیوم خان نے مسلم کانفرنس کی قیادت سنبھال لی تھی۔ پیپلز پارٹی جب دسمبر 1971ء میں پاکستان میں برسر اقتدار آئی تو سردار ابراہیم نے کشمیر میں پیپلز پارٹی قائم کرلی۔ 90ء کی دہائی میں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور پھر تحریک انصاف نے کشمیر میں اپنی شاخیں قائم کیں اور یہ جماعتیں کئی کئی دفعہ اقتدار میں آچکی ہیں۔  آزادکشمیر کی حکومتوں نے وہاں کے باشندوں کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا۔ چند برس پہلے وہاں گندم اور آٹا مہنگا ملنے لگا۔ خاص طور پر برفباری اور خراب موسم میں گندم اور آٹا نایاب ہوجاتا ہے۔ بجلی کے نرخ بھی بڑھے۔ اس صورتحال میں 2023ء میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی تھی ۔ اس کمیٹی نے سستی معیاری گندم اور آٹا کی فراہمی اور بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے 2024ء میں ہڑتال کی اپیل کی۔ یہ اپیل اتنی موثر رہی تھی کہ حکومت کو کمیٹی کے مطالبات ماننے پڑے۔ کمیٹی نے 2025ء میں 38 نکات پر مشتمل منشور جاری کیا۔ حکومت نے 30 نکات پر عملدرآمد کا اعلان کیا۔ لیکن اب پھرکالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا تھا جس کی بناء پر کشمیر میں صورتحال پر تشدد ہوگئی اور کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں۔ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوری طور پر مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔ بلاول بھٹو کی یہ بات درست ہے کہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل