Loading
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اکنامک سروے کے اہم نکات میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکنامک سروے صرف موجودہ صورتحال نہیں بلکہ گزشتہ سال کی معاشی کہانی بھی بیان کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سیلاب اور ریسکیو و ریلیف کی کوششوں کے چیلنجز کا سامنا رہا، جبکہ عالمی سطح پر ٹیرف اور دیگر غیر یقینی عوامل بھی موجود تھے، جنہوں نے معیشت کو متاثر کیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق تین بڑے عوامل حکومت کے لیے چیلنج تھے جن سے کامیابی سے نمٹا گیا، اور رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ چار سال میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اور خطے کی صورتحال نے معاشی نمو پر اثر ڈالا، تاہم بیرونی و اندرونی چیلنجز کے باوجود مثبت گروتھ حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت کا متفقہ ہدف جی ڈی پی کو 4 فیصد سے اوپر لے جانا تھا، تاہم مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث کچھ اثرات مرتب ہوئے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں گروتھ دیکھی گئی، جبکہ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سروسز سیکٹر کی گروتھ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مالیاتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا اور پرائمری بیلنس سرپلس رہا، جبکہ ایف بی آر کے ریونیو میں بھی 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل