Loading
سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت اور اندرونی پالیسیوں سے متعلق ان کے سخت مؤقف پر مبنی گفتگو منظر عام پر آگئی ہے۔
مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈا پور یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی میں ڈکٹیٹر شپ ٹائپ پالیسی قابلِ قبول نہیں، نوٹس دینے والے پہلے اپنا ماضی اور کردار دیکھیں، جبکہ ان کے مطابق “تم ناچو تو فیشن اور ہم ناچیں تو مجرا” جیسے دوہرے معیار کا ماحول موجود ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ لوگوں کو عزت دی جائے کیونکہ کوئی کسی کا زرخرید ملازم یا غلام نہیں ہوتا۔ آڈیو کے مطابق وہ یہ بھی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ حکومت اور کابینہ پر الزامات لگانے والے آج خود وزیر بنے بیٹھے ہیں۔
مبینہ گفتگو میں علی امین گنڈا پور پارٹی قیادت کو مشورہ دیتے ہیں کہ دھمکیوں اور نوٹسز کے بجائے معاملات کو محبت اور عزت سے حل کیا جائے، کیونکہ اس طرح کے رویوں سے پارٹی کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو رہا ہے۔
???????????? سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی مبینہ آڈیو لیک
سابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے سیاسی کمیٹی کو ناراض اراکین سے رابطہ کرنے سے روکنے کے اقدام کو آمریت قرار دے دیا
موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی کی صوبائی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے pic.twitter.com/6VJPPwiUGT
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) June 11, 2026
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل