Loading
آج کل حکومت کے گھر جانے کے بہت سے کالم دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک سینئر کالم نویس نے بھی اپنے سیاسی تجزیہ کی بنیاد پر یہ پیشن گوئی کی ہے کہ جولائی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کا زوال شروع ہو جائے گا۔ محترم کے کالم کی آخری لائن یہی ہے کہ ـ"خیال رکھیں نقارہ بس بجنے کو ہے" جولائی کی تاریخ بھی دے دی ہے۔
وہ یہ مانتے ہیں کہ اب تک پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت کے گھر جانے کی بڑی وجوہات اسٹبلشمنٹ سے اختلاف ، عدلیہ سے اختلاف اور سیاسی اختلاف ہوتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت کو یہ تینوں چیلنجز درپیش نہیں۔ اب ذرا صورتحال کا جائزہ لیں میری رائے میں شہباز شریف کے اور اسٹبلشمنٹ کے بہترین تعلقات ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قیام پاکستان سے اب تک اسٹبلشمنٹ کو پہلا وزیر اعظم شہباز شریف ہی ملا جس کے ساتھ اس کے آئیڈیل ریلشن شپ ہے۔
ایسے تعلقات تو وہ اپنے من پسند وزیر اعظم سے بھی نہیں بنا سکے۔ جن میں محمد خان جونیجو‘میر ظفر اللہ جمالی اور انوار الحق کاکڑ شامل ہیں۔ اسی لیے شہباز شریف کو دوبارہ وزیر اعظم بنایا گیا کیونکہ اور کوئی چوائس نہ تب تھی نہ آج ہے۔ ونڈر بوائے بھی شہباز شریف کی حکمت سیاسی فہم و فراست اور سیاسی فراخدلی کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مجھے نہیں لگتا آج کی اسٹبلشمنٹ کے پاس شہباز شریف کا کوئی نعم البدل ہے۔ عدلیہ اور شہباز شریف کے بھی بہترین تعلقات ہیں۔ کوئی بڑا اختلاف نہیں۔ بلکہ اس وقت اسٹبلشمنٹ عدلیہ اور شہباز شریف ایک پیج پر ہیں۔ شہباز شریف کو مائنس کرنے سے یہ ایک پیج ٹوٹ جائے گا۔ اور شائد اتنی اچھی انڈر اسٹینڈنگ دوبارہ نہ بن سکے۔
یہ کہا گیا ہے کہ شہبازشریف کا پاکستان کے مستقبل کے لیے کوئی ویژن نہیں۔ کوئی معاشی روڈ میپ نہیں۔ اس وقت معاشی طور پر ایک جمود ہے۔ شہباز شریف کے پاس اس معاشی جمود کو تورنے کے لیے کوئی پروگرام نہیں۔ اس لیے یہی معاشی جمود شہباز شریف کے گھر جانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہباز شریف ملک کو کوئی سیاسی بیانیہ نہیں دے سکے اس لیے ان کی ناکامی کی چارج شیٹ میں میڈیا سے دوری اور کوئی بھی سیاسی بیانیہ کی غیر موجودگی ہے۔ اب دونوں چارج شیٹ کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں۔ کہ کیا ان کی بنیاد پر شہبازشریف کو گھر بھیجا جا سکتا ہے۔
پہلی بات مستقبل کے ویژن کی کر لیتے ہیں۔ موجودہ بجٹ کو لے لیں۔ اس بجٹ سے پہلے یہ شور تھا کہ جب تک این ایف سی کے فارمولہ کو نہیں بدلیں گے پاکستان معاشی طور پر نہیں چل سکتا۔ اس لیے اٹھائیسویں ترمیم ناگزیر ہے۔ ایک سیاسی طوفان تھا۔ ایک طرف پیپلزپارٹی اٹھارویں ترمیم کے حق میں کھڑی نظر آرہی تھی۔ دوسری طرف اسٹبلشمنٹ اٹھارویں ترمیم کو پاکستان کے معاشی مسائل کی بنیادی وجہ قرار دے رہی تھی۔ این ایف سی کے اس فارمولہ کو پاکستان کی معاشی زبوں حالی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا تھا۔ صوبے امیر اور وفاق غریب کا بیانیہ نظر آرہا تھا۔ آپ اس بجٹ کو دیکھیں فنڈز بغیر کسی ترمیم کے صوبوں سے مرکز میں آگئے ہیں۔ یہ سیاسی ویژن نہیں ہے۔
یہ کام اسٹبلشمنٹ شہباز شریف کے بغیر کر سکتی تھی۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی دونوں جو چند دن پہلے اٹھارویں ترمیم کے حق میں بیان دیتے نظر آرہی تھیں۔ پنجاب نے سب سے زیادہ فنڈز دئے۔ پھر سندھ، کے پی اور بلوچستان نے بھی مرکز کو دے دئے۔ این ایف سی بدل گیا ہے۔ پیسے صوبوں سے مرکز میں آگئے ہیں۔ یہ اسٹبلشمنٹ اکیلے نہیں کر سکتی تھی۔
اس کے لیے شہباز شریف جیسی سیاسی دانش اور ورکنگ ریلشن شپ چاہیے۔ جو سہیل آفریدی کو بھی ساتھ بٹھا سکتا ہے۔ اور بار بار جاتی عمرہ جا کر بھائی اور بھتیجی کو منا کر پنجاب سے بھی فنڈز لے سکتا ہے۔ مجھے ایسا ونڈر بوائے پاکستان میں دکھا دیں۔شہباز شریف ہی ونڈر بوائے ہیں۔ جس کا ابھی اسٹبلشمنٹ کے لیے اور سیاسی منظر نامہ میں کوئی نعم البدل نہیں۔ سب آزمائے ہوئے، سب کی سیاسی پوزیشن سامنے ہے۔ اس لیے کوئی بھی ریس میں نہیں۔ میرے سیاسی تجزیہ میں اگر خدا نخواستہ کسی بڑے سیاسی بحران کے نتیجے میں اس نظام کو لپیٹنا پڑ گیا جس کی وجہ شہباز شریف نہیں ہو سکتے۔ پھر بھی آج کی صورتحال میں موجودہ اسٹبلمشمنٹ کی پہلی اور آخری چوائس شہباز شریف ہی ہونگے۔
موجودہ بجٹ میں جن کو تبدیلی نظر آرہی ان کو سمجھنا ہوگا کہ یہ اٹھارویں ترمیم یعنی 2010کے بعد پہلا بجٹ ہوگا جہاں فنڈز صوبوں سے واپس مرکز کو آئے ہیں۔ یہ معاشی ویژن نہیں۔ اس وقت تو یہی وقت کی ضرورت تھی۔ جو بغیر کسی بحران کو پیدا کیے ممکن بنایا گیا ہے۔ آپ اس کو خاموش معاشی انقلاب بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ اس کو فی الحال پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کی جانب قدم بھی کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تک اس سال معاشی ترقی نہ ہونے کی بات ہے تو دنیا کے کس ملک میں معاشی ترقی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی خلیج اور امریکا ایران جنگ کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار نظر آئے ہیں۔
یہ درست ہے کہ جن ممالک کے پاس دولت کے ذخائر موجود تھے انھوں نے اس میں خرچ کر کے سنبھلنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے پاس ذخائر نہیں تھے۔ اس لیے بوجھ عوام پر نظر آیا ہے۔ لیکن دنیا کے اکثر ممالک اس جنگ کے اثرات کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں پٹرول کا بحران نہیں، گیس کا بحران۔ ساتھ بھارت میں دیکھ لیں۔ یورپ کے کئی ملک دیکھ لیں۔ اس کو بھی شہباز شریف کا ویژن نہیں کہیں گے کہ ملک میں اتنی بڑی جنگ کے باوجود کوئی بحران نہیں۔
خارجہ پالیسی پر آرمی چیف اور شہباز شریف بہترین تال میل سب کے سامنے ہے۔ کیا ماضی میں کوئی بھی وزیر اعظم ایسی ورکنگ ریلشن شپ بنا سکا ہے۔ کہیں وزیر اعظم آرمی چیف کو کاٹتا رہا ہے، کہیں آرمی چیف وزیر اعظم کو کاٹتا رہا ہے۔ پہلی بار ایک بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ اس کو تو دشمن ہی توڑنا چاہے گا۔ ورنہ اس کو چلانے میں ہی پاکستان کا مفاد نظرآ رہا ہے۔ نئی جوڑی چلے نہ چلے، کون جانے۔ کئی فرماں بردار وزیر اعظم بن کر بدتمیز ہو جاتے ہیں۔ کئی مثالیں سامنے ہیں۔ یہ وقت تجربات کا نہیں بلکہ ایک تسلسل کو جاری رکھنے کا ہے۔ میری رائے میں کوئی تبدیلی زیر غور نہیں۔
میڈیا سے دوری تبدیلی کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی بڑی وجہ ہے۔ اس سے قبل جو آرمی چیف تھے وہ صحافیوں کو گھنٹوں ملتے تھے۔ موجودہ آرمی چیف نہیں ملتے۔ شہباز شریف کو میڈیا فرینڈلی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ ان کو گھر بھیجنے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ میں نہیں سمجھتا کہ میڈیا سے دوری کی بنیاد پر گھر بھیجنے کی طاقت رکھنے والے انھیں گھر بھیج دیں گے۔ سیاسی بیانیہ کی بہت بات کی جاتی ہے۔ سیاسی بیانیہ الیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزاحمتی سیاست کی ضرورت ہوتی ہے۔
شہباز شریف کوئی مزاحمتی سیاست نہیں کر رہے۔ بلکہ مجھے ان کی سیاسی کوشش یہ نظر آتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ملک میں سیاسی درجہ حرات کم رکھا جائے۔ وہ سیاسی درجہ حرارت کو کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو سیاسی درجہ حرارت نہیں بڑھانا چاہیے۔ سیاسی درجہ حرارت بڑھانا اپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ موجود اپوزیشن اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ تو سیاسی سپیس حاصل کر سکی ہے اور نہ ہی سیاسی درجہ حرارت بڑھا سکی ہے۔ جو پی ڈی ایم نے کافی کامیابی سے کر لیا تھا۔ حال ہی کے گلگت کے الیکشن سامنے ہیں۔ جہاں اپوزیشن نظر ہی نہیں آئی۔ مقابلہ حکومت کی جماعتوں کے درمیان ہی تھا۔ اس کو سیاسی بیانیہ نہیں کہیں گے۔
اپوزیشن دیوار کے ساتھ ہے اور سیاسی درجہ حرارت نیچے ہے۔ اس کو بھی کامیابی کہتے ہیں۔ قومی انتخاب آئیں گے تو چند ماہ میں سب بدل جائے گا۔ تب تک انتظار کرنا ہوگا۔ ہم سب کو۔ یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کوئی بڑی تبدیلی نہیں۔ کوئی وزیر اعظم کی تبدیلی نہیں، کابینہ میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس کی بازگشت سن رہے ہیں۔ لیکن یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس کو سیریس نہ لیں۔ وزیر ادھر ادھر ہوتے رہتے ہیں۔ ٹیم میں تبدیلی ہر پیچ سے پہلے ہو جاتی ہے۔ سیاسی کپتان شہباز شریف ہے اور قائم ہے۔ یہی خبر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل