Loading
اصحاب سبت کا واقعہ:-
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی نافرمانی اور ان پر ہونے والے عذاب کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ خاص طور پر سورۃ الاعراف اور سورہ بقرہ میں تفصیل سے مذکور ہے۔ یہ بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ تھا جو بحیرہ احمر (Red Sea) کے کنارے ’’ایلہ‘‘ (Ailah) نامی بستی (موجودہ عقبہ کے قریب) میں آباد تھا۔ یہ واقعہ حضرت داؤد علیہ السلام کے دور میں پیش آیا تھا، یہودیوں میں آج بھی ہفتے کا دن متبرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ہفتے کے دن صرف عبادت کا حکم دیا تھا اور مچھلی کا شکار کرنے سے منع فرمایا تھا۔
یہ بستی سمندر کے قریب تھی، اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو آزمانے کے لیے ہفتے کے دن سمندر میں مچھلیوں کی تعداد بہت زیادہ کر دی، لوگوں نے دیکھا کہ روزانہ تو مچھلیاں اتنی کثیر تعداد میں نہیں نکلتیں لیکن ہفتے کو بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ دیکھ کر کچھ لوگوں کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا اور انھوں نے سوچا کہ ہفتے کے دن تو مچھلی کا شکار کرنا منع ہے تو کیوں نہ کوئی ترکیب لڑائی جائے۔
انھوں نے یہ کیا کہ جمعہ کی شب سمندر میں جال ڈال دیا، ہفتے کو مچھلیاں اس میں پھنستی رہیں اور اتوار کو جا کر وہ جال کھینچ لیتے اور مچھلیاں گھر لے آتے اور کہتے ’’ہم نے ہفتے کو شکار نہیں کیا‘‘ اس کھلی نافرمانی اور حیلہ سازی پر پوری بستی تین گروہوں میں بٹ گئی۔ (۱)۔ نافرمان گروہ جو مچھلیاں پکڑتے تھے اور حیلہ سازی کرتے تھے۔ (۲)۔نیک گروہ، جو خود بھی ہفتے کے دن شکار نہیں کرتے تھے بلکہ پہلے نافرمان گروہ کو بھی روکتے تھے۔ (۳)۔ خاموش گروہ، جو خود تو شکار نہیں کرتے تھے مگر شکار کرنے والوں کو روکتے بھی نہیں تھے بلکہ نیک لوگوں کو بھی روکتے تھے کہ تم کیوں ایسے لوگوں کو سمجھاتے ہو جنھیں اللہ خود ہلاک کرنے والا ہے۔
جب نافرمانوں نے نصیحت ماننے سے انکار کر دیا تو اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا، نیک لوگوں نے نافرمانوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ عذاب کے نتیجے میں نافرمانی کرنے والے گروہ کو اللہ نے بندر اور خنزیر بنا دیا، جوانوں کو بندر اور بوڑھوں کو خنزیر بنا دیا اور ان پر تین دن تک عذاب نازل ہوا۔ وہ خنزیر اور بندر بننے کے بعد بہت روئے، معافیاں مانگیں لیکن اللہ نے ان کی ایک نہ سنی۔ تین دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر ڈالا۔ ان کی کوئی نسل باقی نہیں ہے، اللہ نے انھیں بھی سزا دی جنھوں نے گناہ کو دیکھ کر خاموشی اختیار کی تھی۔ گناہ، ظلم اور زیادتی کو دیکھ کر خاموش رہنا بھی اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔ یہ واقعہ قیامت تک کے لیے عبرت ہے۔ اللہ کے احکام میں حیلہ سازی کرنا اور اس کے احکامات کو نظرانداز کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ یاد رہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ موجودہ بندر اور خنزیر کا اس بندروں کی نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بندر اور خنزیر ظہور اسلام سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی۔ بندروں کی قوم صرف تین دن زندہ رہی پھر خنزیروں اور بندروں کو اللہ نے ہلاک کر ڈالا۔
حضرت سلیمان ؑ کا واقعہ:-
حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند تھے، والد کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان ؑ کو بھی نبوت اور بادشاہت عطا ہوئی۔ آپؑ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے، آپؑ کی بادشاہت چالیس سال تک قائم رہی، آپ ؑ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ انھیں ایسی بادشاہت دے جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی ہو، نہ ان کے بعد کسی کو حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور انھیں انسانوں، جنوں، چرند پرند پر بادشاہت عطا کی۔ اللہ نے آپؑ کو ایسی عظیم الشان سلطنت، حکمت اور معجزات عطا فرمائے جو کبھی کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ آپؑ کی حکومت ہوا پر بھی تھی، اللہ نے ہوا کو حضرت سلیمانؑ کے تابع کر دیا تھا۔
ہوا حضرت سلیمانؑ کے حکم سے چلتی تھی، آپؑ کا تخت سلطنت ہوا کے دوش پر صبح سے دوپہر تک ایک مہینے کی مسافت اور دوپہر سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کرتا تھا۔ آپؑ کا تخت جنات اٹھاتے تھے۔ آپؑ جانوروں اور پرندوں کی زبان سمجھتے تھے۔ جنات پر حکومت کرتے تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تھی، اپنی وفات سے پہلے انھوں نے حضرت سلیمانؑ کو وصیت کی کہ وہ بیت المقدس کی تعمیر مکمل کروائیں۔ حضرت سلیمانؑ نے جنات سے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کروائی، سرکش اور شریر جنات کو وہ سزا بھی دیتے تھے۔ جنات ان کے خوف سے کام کرتے رہتے تھے۔
حضرت سلیمان روز دربار لگاتے جس میں انسانوں کے علاوہ جنات، چرند پرند سب موجود ہوتے تھے۔ ایک دن انھوں نے دیکھا کہ ہدہد غائب ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے، لیکن کسی کو پتا نہ تھا۔ انھوں نے اسے سزا دینے کو کہا، اسی وقت ہد ہد آ گیا اور اس نے بتایا کہ وہ ایک ایسی جگہ گیا تھا جہاں ایک بہت حسین عورت حکمران ہے اور وہ لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ ہد ہد نے بتایا کہ ملکہ کا نام بلقیس ہے اور وہ یمن کی حکمران ہے۔ حضرت سلیمان نے ہد ہد کے ذریعے ملکہ کو دعوت اسلام دی، جواب میں ملکہ بلقیس نے تحائف بھیجے لیکن حضرت سلیمانؑ نے انھیں ٹھکرا کر اسلام قبول کرنے کا حکم دیا۔ ملکہ بلقیس کو ملکہ سبا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قصہ قرآن میں سورہ النمل میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
ہد ہد نے بتایا کہ اس عورت کے پاس ہر قسم کا ساز و سامان اور ایک بہت قیمتی تخت بھی موجود ہے۔ ملکہ نے اپنے درباریوں سے مشورہ مانگا تو انھوں نے جنگ کا مشورہ دیا لیکن ملکہ نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے بیش قیمت تحائف بھیجے تاکہ ان کا امتحان لے سکے ، جب حضرت سلیمانؑ نے تحائف کو ٹھکرا کر کہا کہ اللہ نے مجھے جو دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں زیادہ ہے اور انھوں نے ملکہ کو ملنے کی دعوت دی، جب ملکہ نے حضرت سلیمانؑ سے ملنے کا فیصلہ کیا تو آپؑ نے اپنے دربار میں پوچھا کہ ملکہ کے پہنچنے سے پہلے کون ملکہ کا تخت یہاں لا سکتا ہے، ایک جن نے کہا کہ دربار برخاست ہونے سے پہلے لے آؤں گا، پھر ایک دوسرا شخص پلک جھپکتے میں ملکہ کا تخت لے آیا۔ حضرت سلیمانؑ نے ملکہ کے استقبال کے لیے ایک محل بنوایا جس کا فرش شیشے کا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا، جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس نے گہرا پانی سمجھ کر اپنے پائنچے اوپر کر لیے جب حضرت سلیمان ؑ نے اسے بتایا کہ یہ شیشہ ہے تو وہ بہت شرمندہ ہوئی اور اس معجزانہ شان و شوکت اور نبوت کو دیکھ کر ششدر رہ گئی اور اس نے اعتراف کیا کہ اب تک وہ غلطی پر تھی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ بعد میں حضرت سلیمانؑ نے ملکہ بلقیس سے شادی کر لی۔
اصحاب کہف کا واقعہ:-
اصحاب کہف کا واقعہ سورہ الکہف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ چند مومن نوجوانوں کا ایمان افروز واقعہ ہے جنھوں نے ظالم بادشاہ کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی تھی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں 300 سال تک سلائے رکھا اور بعد میں وہ بیدار ہو کر زندہ ہو گئے۔ یہ واقعہ ملک روم میں ایک ایسے دور میں پیش آیا جب وہاں کا بادشاہ دقیانوس انتہائی ظالم اور بت پرست تھا، وہ اہل ایمان کو زندہ نہیں چھوڑتا تھا اور انھیں اپنے بتوں کی پوجا کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ ان نوجوانوں نے جن کی تعداد سات تھی اللہ کی وحدانیت کو قبول کیا اور دربار شاہی میں بت پرستی کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ جب انھیں شدید خطرہ محسوس ہوا کہ دقیانوس انھیں قتل نہ کر دے تو انھوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک غار کہف میں پناہ لی۔ ان کے ساتھ ان کا کتا قطمیر بھی تھا، نوجوانوں نے غار میں داخل ہو کر اللہ سے دعا کی:
’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں کامیابی کے راستے مہیا فرما۔‘‘ (سورہ کہف)
اللہ نے ان نوجوانوں کی دعا قبول کی اور غار میں ان پر ایسی نیند ڈال دی کہ وہ 300 برس تک گہری نیند سوتے رہے۔ قرآن کے مطابق اللہ نے ان کی حفاظت کے لیے خاص انتظام کیا تھا، انھیں دائیں بائیں کروٹیں بدلوائی جاتی تھیں تاکہ زمین ان کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ ان کا کتا غار کے دہانے پر اگلے پاؤں پھیلائے بیٹھا رہا۔ سورج کی روشنی غار کے اندر براہ راست نہیں پڑتی تھی جس سے ان کے جسم سلامت رہے۔ جب وہ 300 سال کے عرصے کے بعد بیدار ہوئے تو انھیں لگا کہ وہ صرف ایک دن یا آدھے دن سوئے ہیں۔
انھوں نے آپس میں بات کی اور پھر کھانا لینے کے لیے اپنے ایک ساتھی کو پرانے سکے دے کر شہر بھیجا۔ جب ان کا ساتھی شہر پہنچا تو وہاں کا ماحول بدلا ہوا تھا، اس کا سکہ 300 سال پرانا تھا جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ پتا چلا کہ اب دقیانوس کا دور نہیں رہا بلکہ ایک نیک بادشاہ ’’بیدروس‘‘ کی حکومت تھی اور لوگ مسلمان ہوچکے تھے۔ نوجوان اس دور کی نشانی بن گئے کہ اللہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اصحاب کہف کا دوبارہ زندہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کے دن اللہ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اکثر ماہرین کے مطابق یہ غار اردن میں واقع ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ غار ترکی کے شہر افیسس (Ephesus) میں ہے۔
(جاری ہے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل