Friday, June 12, 2026
 

بیٹی کو خودکشی کیلئے اکسانے پر خاتون کا اوپن اے آئی کیخلاف مقدمہ

 



امریکا میں مصنوعی ذہانت کی کمپنی OpenAI کے خلاف ایک سنگین نوعیت کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں ایک ماں نے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے اس کی بیٹی کو خودکشی پر اُکسایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے سان فرانسسکو کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی 24 سالہ بیٹی نے اپنی ذہنی کیفیت اور خودکشی سے متعلق خیالات کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے بارہا گفتگو کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے ان حساس بات چیت کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا، نہ ہی کسی ماہر کی مدد لینے کا مشورہ دیا بلکہ بعض مواقع پر اس نے لڑکی کے خیالات کی تائید کی اور گفتگو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جو بالآخر اس کی موت کا سبب بنی۔ مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے خود کو ایک قابلِ اعتماد دوست اور رہنما کے طور پر پیش کیا، حالانکہ وہ اس نوعیت کے حساس معاملات کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ دوسری جانب OpenAI نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ صارف جس سسٹم کا استعمال کر رہی تھی وہ اب دستیاب نہیں اور کمپنی مسلسل اپنے پلیٹ فارم کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ماہرین کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے ہرجانے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ خودکشی جیسے حساس موضوعات پر چیٹ بوٹس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور واضح انتباہی نظام متعارف کرایا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل