Loading
فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ تحسین نے وفاقی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ نے صنعتکاروں کے مسائل کا مکمل مداوا نہیں کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریفنڈز کی عدم ادائیگی اور انرجی ٹیرف پر خاموشی صنعتی سیکٹر کیلئے تشویشناک ہیں، برآمدی شعبے کو سہولیات نہ دینے پر معاشی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صنعتی انقلاب کا فقدان رہا، حکومت نے صنعتی انجمنوں کی تجاویز پر عمل نہیں کیا، اسمال میڈیم انڈسٹریز کو نظر انداز کرکے برآمدی شعبے کو مشکل میں ڈال دیا گیا ہے۔
شیخ تحسین نے کہا کہ بجٹ میں پراپرٹی اور ٹریول سیکٹر کو ملنے والا ریلیف معیشت کو فائدہ پہنچائے گا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ کے بعد نئی صنعتی پالیسی میں برآمدی شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کرے۔
شیخ تحسین نے کہا کہ برآمدات کو فروغ ملنے سے ہی زرمبادلہ میں آمدنی بڑھ سکے گی اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے، بجٹ میں کراچی کے فور منصوبے کیلئے صرف 10ارب روپے مختص کرنے پر مایوسی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا سالانہ محصولاتی ہدف صنعتی بحالی کے بغیر ممکن نہیں ہے جبکہ اشیائے صرف پر 18فیصد جی ایس ٹی مہنگائی کی شرح میں اضافہ کرے گا، عالمی سطح پر شرح سود بڑھنے سے بجٹ کے تخمینے متاثر ہوں گے۔
انہوں نے سپر ٹیکس کی حد میں تبدیلی اور 50 کروڑ روپے آمدنی پر اس کا خاتمہ خوش آئند قرار دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل