Tuesday, June 16, 2026
 

نئے سیاسی ،سماجی اور معاشی رجحانات

 



پاکستان میں بڑی تیزی سے نئے سیاسی ،سماجی، معاشی اور اخلاقی رجحانات میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جو لوگ علم و تحقیق سے وابستہ فرد یا ادارے ہیں، وہ اپنی علمی کاوشوں سے ان مسائل پر گفتگو کررہے ہیں لیکن مجموعی طور پر ہماری سیاسی اشرافیہ یا اقتدار سے جڑے افراد یا جو لوگ پالیسی سازی یا قانون سازی سے وابستہ ہیں، وہ ان معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک سیاسی اور سماجی تقسیم بھی ہے اور ٹکراؤ کی صورتحال بھی غالب نظر آتی ہے۔ ہم نئی نسل کو سست و کاہل سمجھ رہے ہیں یا ان کو بوجھ بنا کر پیش کررہے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان میں ہیجان، جارحیت اور پرتشدد رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ابھرتی ہوئی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کا ہے ۔ اس کلاس یا طبقے کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں بہت زیادہ ترقی کے نئے امکانات یا پھر نئے مواقع ملے ۔اسی دور میں جہاں ان کو روزگار ملا وہیں مختلف حکومتی منصوبوں کی بنیاد پر ان کے حالات میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملی جن میں ان کی زندگی میں موٹر سائیکل،آسان قسطوں پر گاڑیاں،گھر اور زمین خریدنے کا رجحان دیکھنے کو ملا اور ان کو اپنے بچوں کو  مہنگے انگریزی میڈیم نجی اسکولوں اور کالجز کی سطح پر پڑھانے کا موقع بھی ملا ۔ اسی طرح اسی دور میں دور دراز چھوٹے شہروں اور دیہاتوںکے نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کو بڑے شہروں میں پڑھنے اور روزگار کے لیے آنے کے مواقع بھی ملے جس نے ان کی زندگیوں میںبہتر مستقبل کے لیے نئی امید اور خوشی پیدا کی ۔ان کو لگا کہ وہ بھی اپنی زندگی میںبہت کچھ تبدیل کرسکتے ہیں ۔ نئی نسل کی ہائر ایجوکیشن تک رسائی بھی بڑھی جن میں لڑکیوں کی بڑی تعداد شامل تھی ۔اس عمل نے خود نئی نسل کی پڑھی لکھی لڑکیوں کے سیاسی اور سماجی رویوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔اس سارے نئے سیاسی یا سماجی رجحان نے لوگوں کو ایک نیا شعور بھی دیا اور ان کی اپنی بھی اچھی یا بری فکر کو آگے بڑھایا۔ اس نسل نے روائتی سیاست،خاندانی سیاست ،مقامی سطح پر موجود طاقت ور ڈھرے بندی کو بھی چیلنج کیااور ان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فکر کا نیا بیانیہ تشکیل دیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ روائتی سیاست بھی کمزور ہوئی اور ملک میںسیاست اور ووٹ کے رجحانات اور ان میں نئی کشمکش یا نئی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ماضی میں ووٹ ڈالنے کا عمل خاندان کی سطح پر مشترکہ ہوتا تھا مگر اب نئی نسل ووٹ ڈالنے کے بارے میں تقسیم ہے اور پرانے لوگوں یا اپنے ہی پرانے بزرگوں کو وہ ہر سطح پر چیلنج کررہی ہے ۔روزانہ کی بنیاد پر جو نئے 18برس کے ووٹر ز سامنے آرہے ہیں ان کی قبولیت پرانی اور روائتی سیاسی جماعتوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس لیے پرانی حکمرانی سے جڑے لوگ یا پرانی روائتی سیاسی جماعتیں نئی نسل کے ووٹرز کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر ووٹرز کی عمر میں تبدیلی کی باتیں بھی وقفہ وقفہ سے سننے کو مل رہی ہیں۔ سیاست،حکومت اور ریاست کے نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بھی نیا میڈیا اور اس میں پیدا ہونے والی نئی جہتیں بھی بنی ہیں جس نے نئی نسل کو اپنی آوازوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئے راستے بھی فراہم کیے۔ جنرل مشرف ہی کے دور میں نجی میڈیا چینلز کا سامنے آنا ۔ پھر اس نجی میڈیا کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں آنے والے انقلاب نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کے آنے سے روائتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کم ہورہی ہے اور حکمرانی کا نظام سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھ رہا ہے ۔اسی لیے اس کو کمزور کرنے کا کھیل بھی ہم کو ہر سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس لیے آب متبادل آوازوں کو دبانے کا معاملہ آسان نہیںرہا اور اگر ان آوازوں کے خلاف طاقت کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا نئی نسل کی سطح پر سخت ردعمل بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بالخصوص جب ملک میں معاشی محرومی،بے روزگاری ،غربت ،بھوک ،تفریق اور طبقاتی سطح پر موجود امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی تقسیم کا غلبہ ہوتا ہے تو پھر لوگ اس نظام سے نہ صرف نالاں ہوتے ہیں بلکہ اپنی آوازیںبھی اٹھاتے ہیں۔اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم مسائل کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے کی بجائے جذباتیت اور ردعمل کی سیاست کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں اور یہ اندازہ ہی نہیں کرپارہے کہ سماج میں لوگ کن بنیادوںپر سوچ رہے ہیں۔سیاسی جماعتوںکی سطح پر بھی نئے معاشرتی رجحانات کے بارے میں نہ کوئی فکر مندی ہے اور نہ ہی ان میں ایسے تھنک ٹینک موجود ہیں جو نئے جدید خیالات کی بنیاد پر لوگوں کو ساتھ جوڑ کر کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی روائتی سیاست دم توڑ رہی ہے اور اس کو زندہ کرنے کرنے کے لیے بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، انھیں خود کو لوگوں کی ترجیحات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔لوگ نظام کو تبدیل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جب یہ لوگ معاشرے اور حکمرانی کے نظام میںمختلف نوعیت کے استحصال پر مبنی رویے یا ان کی حکمت عملی کو دیکھتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ یہ نظام ان کے خلاف ہے۔اس لیے اگر ہم نئے سیاسی ،سماجی،معاشی رجحانات کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو مسائل کا حل بھی تلاش کرسکیں گے۔اس لیے روائتی سوچ سے باہر سے خود بھی نکلیں اور دوسروں کو بھی باہر نکالیں تاکہ ہم بطور معاشرہ آگے بڑھ سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل