Tuesday, June 16, 2026
 

’’چشم دید گواہ ‘‘

 



محمد سعید مہدی صاحب کو سول بیوروکریسی کا امام بھی کہا جاسکتا ہے، ممکن ہے کچھ لوگ ان کے مقتدی بننے سے گریزاں رہے ہوں مگر ان کی قیادت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ انھیں سول سروس کی dream postings ملتی رہیں، راولپنڈی، لاہور اور اسلام آباد، افسروں کے پسندیدہ ترین شہر سمجھے جاتے ہیں، وہ تینوں جگہوں پر پہلے ڈی سی اور پھر کمشنر رہے اور پھر انھوں نے سول سروس کی آخری چوٹی بھی سر کرلی یعنی پرائم منسٹر کے پرنسپل سیکریٹری بھی رہے۔ میاں نوازشریف کے پہلے دو ادوار میں جتنا اثر ورسوخ انھیں حاصل تھا اتنا زرداری صاحب کے پہلے دورِ صدارت میں شاید سلمان فاروقی کو حاصل ہو تو ہو مگر کوئی تیسرا بیوروکریٹ اتنا طاقتور نہیں رہا، ان کے کیرئیر کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ وہ مشرف دور میں ناکردہ جرم کی پاداش میں گرفتار ہوگئے اور دو سال جیل میں رہے۔ انھوں نے آزمائش کا یہ دور ہمّت سے گذارا اور حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ نوکری اور عہدے سے محروم کردیے گئے مگر پسِ دیوارِ زنداں رہ کر انھوں نے زندگی کے بہت کارآمد سبق حاصل کیے ہوں گے، جن کی کچھ جھلک ان کی خودنوشت میں بھی نظر آتی ہے۔ سروس کے علاوہ میرے ان کے ساتھ دو تعلّق اور بھی ہیں، وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال سے پڑھے ہیں اور میں بھی ابدالین ہوں، وہ ہم سے بہت سینئر تھے، کیڈٹ کالج کے بعد وہ بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور میں نے بھی جی سی سے گریجوایشن کی، لہٰذا میں بھی ان کی طرح ابدالین بھی ہوں اور راوین بھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ میرے ہی کہنے پر اولڈ راونینز ایسوسی ایشن کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اسلام آباد چیپٹر کے صدر رہے جب کہ ممتاز شیخ (مرحوم) اس کے جنرل سیکریٹری اور راقم چیف آرگنائزر تھا۔ اُس وقت میں اسلام آباد (نیشنل پولیس اکیڈیمی) میں تعینات تھا، اور ہم نے مل کر وفاقی دارالحکومت میں کئی یادگار تقریبات منعقد کیں، ایک بار ہماری دعوت پر مزاحیہ نثر کے شہنشاہ مشتاق احمد یوسفی اور شگفتہ شاعری کے ورلڈ چیمپئن پروفیسر انور مسعود ساتھ اسٹیج پر ایک ساتھ جلوہ گر ہوئے تھے۔ اسلام آباد کلب میں یہ محفل رات ڈیڑھ بجے تک چلتی رہی اور ہال آخر تک کھچا کھچ بھرا رہا، اس تاریخی اور یادگار تقریب کو لوگ اب بھی یاد کرتے ہیں۔ حکمرانوں کے انتقام کا نشانہ بن کر میں خیبرپختونخواہ چلا گیا اور ممتاز شیخ صاحب بیماریوں میں گھر گئے تو ایسوسی ایشن غیر متحرّک ہوگئی۔ میری سعید مہدی صاحب سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب 1988میں پروموٹ ہوکر میں راولپنڈی میں بطور ایس پی تعینات ہوا، جہاں مہدی صاحب کمشنر تھے۔ وہ بڑی خوشگوار شخصیّت کے مالک تھے۔ راولپنڈی میں ان کے ساتھ اکثر ملاقاتیں ہوتیں، جس کا میں نے اپنی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ میں بھی ذکر کیا ہے، ان کے بارے میں میرے ذہن میں جو تاثر قائم ہوا اس میں دو اوصاف نمایاں تھے، 'pleasant and positive' ان کے بارے میں میرے یہ ابتدائی تاثرات آخر تک قائم رہے۔ میرے ساتھ سعید مہدی صاحب کا رویّہ ہمیشہ مشفقانہ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل مہدی صاحب ہمارے بڑے بھائی جان جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ کی وفات پر افسوس کے لیے میری رہائش گاہ پر تشریف لائے تو انھوں نے اپنی کتابThe Eye witness بھی عنایت کی۔ ان کے جانے کے بعد میں نے کتاب کھولی تو اس پر ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا "With affectionate regards to a friend and colleague Mr. Zulfiqar Ahmed Cheema PSP (R) whom i found to be extremely honest, hardworking, competent and efficient officer, who never succumbed to pressure or influence in the discharge of his duties. He performed his functions fearlessly and honestly. M. Saeed Mehdi". مہدی صاحب کے ریمارکس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کی کتاب کا عنوان Eye witness ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہ ملکی تاریخ کے بہت سے اہم واقعات کے عینی شاہد رہے ہیں۔ ان کا واقعات سنانے کا انداز بے حد دلنشین ہے چنانچہ اپنی کتاب چشم دید گواہ میں بھی مہدی صاحب نے اپنی زندگی اور سروس کے بہت سے دلچسپ واقعات تحریر کیے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے انڈرٹریننگ اے سی کی حیثیّت سے ساہیوال میں تعیّنات ہوئے، جو اس وقت ملتان کا ضلع ہوتا تھا، وہ اپنے کمشنر کو ملنے کے لیے مسلسل فون کرتے رہے مگر کمشنر صاحب زیرِتربیّت اے سی کا فون سننے سے گریزاں تھے، اتنے میں ایک نائب تحصیلدار ان کے دفتر ان سے ملنے کے لیے آیا، اس نے نوجوان افسر کی پریشانی کو بھانپ لیا، چنانچہ اس نے باہر جا کر فون پر کمشنر صاحب سے بات کی تو کمشنر نے مہدی صاحب کا فون بھی سن لیا اور دوسرے روز انھیں کمشنر ہاؤس میں لنچ پر مدعو بھی کرلیا، نوجوان اے سی کو یہ بات اچھی نہ لگی، مہدی صاحب جب کمشنر ہاؤس پہنچے تووہی نائب تحصیلدار محمد اقبال ٹکا پہلے سے وہاں موجود تھا۔ ایک نوجوان سول سرونٹ کے لیے یہ صورتحال یقیناً پریشان کن تھی، مگر اس میں عملی زندگی کی تلخ حقیقتیں بھی مضمر تھیں۔ اس واقعہ کے اٹھارہ سال بعد جب میں اے ایس پی کے طور پر پاکپتن میں تعینات تھا، تو ایک روز دفتر میں مجھے ایک وزیٹنگ کارڈ موصول ہوا جس پر لکھا تھا محمد اقبال ٹکا ایم پی اے۔ جی ہاں اب وہ نائب تحصیلدار صاحب پنجاب اسمبلی کے رکن بن چکے تھے۔ اس کے ٹھیک دس سال بعد پھر ایک بار راقم کی موصوف سے ملاقات ہوئی، جگہ اور عہدے تبدیل ہوچکے تھے، اب ملاقات کا مقام راولپنڈی کے کمشنر ہاؤس کا وسیع لان تھا، ظہرانے کے میزبان کمشنر محمد سعید مہدی صاحب تھے، جس میں پورے ڈویژن سے انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران مدعو تھے اور اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے وہی سابق نائب تحصیلدار اقبال ٹکا صاحب ، جو اب پنجاب حکومت میں اینٹی کرپشن کے وزیر تھے۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ مصنّف نے ’’دوسری تقسیم۔ سوری مسٹر جناح‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے چھٹے باب میں 1970 کے انتخابات اور اس کے نتائج اور مضمرات پر بحث کی ہے۔ اسی باب کے صفحہ نمبر 67 میں انھوں نے لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن آخر دم تک مغربی پاکستان کے سیاسی راہنماؤں سے مخاطب ہوکر کہتا رہا کہ آئیں مل کر پورے پاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں مگر مغربی پاکستان کے ایم این ایز ملک کا اقتدار مشرقی پاکستان کے کسی لیڈر کو دینے کے لیے تیار نہ تھے، اسی جگہ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لیے مغربی پاکستانیوں نے آدھے سے زیادہ ملک گنوادیا‘‘ نہ جانے کیوں مصنف نے اصل ذمے داران کی بجائے مغربی پاکستان کی پوری آبادی پر ذمّے داری ڈال دی ہے۔ دو افراد کی بجائے مغربی پاکستان کے تمام باشندوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا حقائق کے منافی ہے، مصنف بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت کو اقتدار سونپنے کے راستے میں رکاوٹ بے چارے مغربی پاکستانی عوام نہیں بلکہ دو افراد کی ہوسِ اقتدار تھی، یحیٰی خان جو سیاہ وسفید کا مالک اور فیصلے کا اختیار رکھتا تھا اورذوالفقار علی بھٹو جو اپوزیشن لیڈر بننے کی بجائے اقتدار میں حصہ چاہتا تھا۔ لہٰذا یحیٰی اور بھٹو کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔ عام ارکانِ اسمبلی تو اجلاس میں جانے کے لیے تیار تھے مگر ذوالفقار علی بھٹو نے دھمکی دے دی تھی کہ جو ایم این اے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جائے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ کتاب کے اس باب میں بھٹو صاحب کے غیر جمہوری طرزِ عمل کا ذکر غائب ہے جو ہونا چاہیے تھا۔ یحییٰ خان، اس کے ٹولے اور ذوالفقار علی بھٹو کی جارحانہ سیاست کے نتیجے میں اقتدار منتخب نمایندوں کو منتقل نہ ہوسکا، اور اس کی بجائے یحیٰی نے ملٹری آپریشن شروع کردیا جس کا بھٹو صاحب نے یہ کہہ کر خیر مقدم کیا کہ ’’خدا کا شکر ہے کہ ملک بچ گیا ہے‘‘ ہمارے ازلی دشمن کو موقع مل گیا جس نے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ گیا۔   (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل