Loading
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ایوان میں نظم و ضبط اور پارلیمانی روایات کا احترام یقینی بنایا جائے، گیلریوں اور لابیوں میں قواعد کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ ارکان کو پارلیمانی آداب اور رولز اینڈ ریگولیشنز سے آگاہ کیا جائے، پارلیمنٹ ہاؤس کے وقار اور حرمت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے، سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مہمانوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ گیلریوں میں غیر ضروری گفتگو، اشاروں سے رابطے کی حوصلہ شکنی کی جائے،
ایوان کا ماحول خراب کرنے والے رویوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے، اسپیکر کے اختیارات اور فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے، پارلیمانی نظم و ضبط کے لیے واضح ہدایات نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تمام ارکان پارلیمانی روایات اور ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں، غیر متعلقہ افراد آ کر ویڈیوز بناتے اور مختلف انداز میں تصاویر بنواتے ہیں، جبکہ لابیز کا تقدس بھی ایوان کی طرح برقرار رہنا چاہیے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ پاسز کے بغیر مہمان نہ لائیں اور اس حوالے سے کنڈکٹ آف بزنس کے قواعد بھی پڑھ کر سنائے۔
خواجہ آصف نے پارلیمنٹ لاجز اور سڑکوں پر ویگو ڈالوں کے استعمال پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر پابندی کی تجویز دی، جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ویگو ڈالے سے بچائیں، ویگو ڈالا ویسے بھی بے ہودگی ہے، ہمارے وزرا کو بتائیں شام کے بعد جھنڈا گاڑی پر نہیں ہونا چاہیے، جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہو تو جھنڈے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی ایسا طور طریقہ ہونا چاہیے کے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالے نہ آئیں، جب ہم اقتدار میں ہوتے ہیں آگے پولیس ہوتی ہے اقتدار جاتا ہے پیچھے پولیس ہوتی ہے، ویگو ڈالوں پر پابندی لگائی جائے، ویگو ڈالوں پر سڑکوں پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ رہتے ہیں کس کو کیا خطرہ ہے، ویگو ڈالے میں جو بیٹھتا ہےاسے کچھ ہو جاتا ہے، پارلیمنٹ لاجز میں رہنے والے اراکین کو غیر ضروری سیکیورٹی پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
اس موقع پر اسپیکر ایاز صادق نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ لاجز میں غلط پارکنگ کے باعث ماضی میں ایک رکنِ اسمبلی جان کی بازی ہار چکا ہے، لہٰذا وزارت داخلہ کو اس معاملے پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت دی جائے گی۔ بعد ازاں علی محمد خان نے تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے ایک باقاعدہ فیسلیٹیشن سینٹر قائم کیا جائے تاکہ انہیں بہتر رہنمائی اور سہولت فراہم کی جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل