Sunday, June 21, 2026
 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات، فیلڈ مارشل بھی موجود 

 



امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات،،اسٹیوو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات برگن اسٹاک میں جاری ہیں، جن میں مختلف عالمی اور علاقائی شخصیات شریک ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف مذاکراتی عمل کے سلسلے میں برگن اسٹاک میں موجود ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی پاکستانی نمائندگی میں شریک ہیں۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اور قطر بطور ثالث کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ پیش رفت نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے تو اسے خطے کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک پہنچ گئے۔ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پردستخطوں کے تسلسل میں آج (21 جون) سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔ Zürich: 21 June 2026. Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June 2026. Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has arrived in… pic.twitter.com/PGEL9vIVsl — Prime Minister's Office (@PakPMO) June 21, 2026 وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے، جس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات میں بطور میزبان اور ثالث شریک ہوگا۔ قبل ازیں دفترخارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعمل درآمد کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ کہا گیا کہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمتوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کو عملی شکل دی جا سکے۔ غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری بھی ہوں گے۔ ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، نائب وزیر تیل حمید بورڈ سمیت ملک کے اعلیٰ اقتصادی اور سیکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ جائیں گے، صدر ٹرمپ کے مشیر کے ساتھ ساتھ داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو ویٹکوف بھی جنیوا کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل