Loading
قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 31 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 91 کھرب 71 ارب سے زائد مالیت کے 125 مطالبات زر منظور ہوگئے، وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ پر اپوزیشن کی 307 کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگز یب نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ کی منظوری کے لیے مطالبات زر پیش کیے جس کے تحت قومی اسمبلی نے اسمبلی اور سینیٹ سمیت 31 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 91 کھرب 71 ارب 78 کروڑ سے زائد کے 125 مطالبات زر منظور کرتے ہوئے وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ پر اپوزیشن کی 307 کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دیں۔
اپوزیشن نے کابینہ ڈویژن کے 18مطالبات زر پر 90، توانائی ڈویژن کے 6 مطالبات زر پر 116، خزانہ ڈویژن کے 12 مطالبات زر پر کٹوتی کی 100 تحاریک پیش کیں۔
قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے 1کھرب 53ارب سے زائد کے 29مطالبات زر منظور کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے کابینہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے بجٹ میں کٹوتی سے متعلق 90کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دیں جبکہ خزانہ ڈویژن کے 42 کھرب 62 ارب سے زائد کے 14مطالبات زر منظور کرتے ہوئے اپوزیشن کی 100کٹوتی کی تحاریک مسترد کردیں۔ توانائی ڈویژن کے 6 کھرب 61 ارب سے زائد کے 6 مطالبات زر منظور کرتے ہوئے اپوزیشن کی 116کٹوتی کی تحاریک مسترد کی گئیں۔
ایوان نےماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے تین ارب 89 کروڑ سے زائد کے 2 ،کامرس ڈویژن کے 27 ارب 99 کروڑ سے زائد کے 2 ،مواصلات ڈویژن کے 1 کھرب 25 ارب سے زائد کے پانچ مطالبات زر منظور کیے۔ قومی اسمبلی نے دفاع اور دفاع ڈویژن کے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ سے زائد کے 5 مطالبات زر کی منظوری دی جبکہ دفاعی پیداوار ڈویژن کے 2 ارب 11 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر کو بھی منظور کرلیا گیا۔
ایوان نے اکنامک افیئر ڈویژن کے 15 ارب ایک کروڑ سے زائد مالیت کے 2، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے 1 کھرب 21 ارب 26 کروڑ سے زائد کے 9 جبکہ خارجہ امور ڈویژن کے 68 ارب 17 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔ ایوان نے ہاؤسنگ اور تعمیرات ڈویژن کے 22 ارب 31 کروڑ سے زائد کے 2، انسانی حقوق ڈویژن کے 2 ارب 33 کروڑ سے زائد کے 4 جبکہ صنعت وپیداوار ڈویژن کے 29 ارب 53 کروڑ سے زائد کے 2 جبکہ داخلہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے 45 ارب 4 کروڑ سے زائد مالیت کے 2 مطالبات زر منظور کرلیے۔
ایوان نے اطلاعات و نشریات ڈویژن کے 27 ارب 57 کروڑ روپے سے زائد کے 3، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 42 ارب 7 کروڑ روپے سے زائد کے 2، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے 5 ارب 2 کروڑ سے زائد کے 2 مطالبات زر کو منظور کرلیا۔
قومی اسمبلی نے امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کے 3 ارب 18 کروڑ سے زائد کے 2، قانون و انصاف ڈویژن کے 24 ارب 91 کروڑ سے زائد کے 7 ، میری ٹائم افیئر کے 4 ارب 12 کروڑ سے زائد کے 2 مطالبات زر منظوری دی۔
ایوان نے قومی اسمبلی کا 9 ارب 3 کروڑ سے زائد کا ایک، سینیٹ آف پاکستان کا 3 ارب 21 کروڑ سے زائد کا ایک، وزارت قومی صحت کے 53 ارب 28 کروڑ سے زائد کے 2 مطالبات زر منظورکر لیے۔
قومی اسمبلی نے وزارت پارلیمانی امور کا 1 ارب 20 کروڑ سے زائد کا ایک، وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کے 37 ارب 21 کروڑ سے زائد کے 2، نجکاری ڈویژن کے 1 ارب 74 کروڑ سے زائد کے 2 مطالبات زر کی منظوری دی۔
ایوان نے وزارت ریلوے کے 1 کھرب 11 ارب 13 کروڑ سے زائد کے 2 ، وزارت مذہبی امور کے 2 ارب 40 کروڑ سے زائد کے 2، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن کے 19 ارب 74 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کر لیے جبکہ وزارت آبی وسائل کے 1 کھرب 7 ارب روپے سے زائد کے تین مطالبات زر منظوری دی گئی۔
داخلہ، نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور تخفیف غربت ڈویژن کے 12 کھرب 42 ارب 86 کروڑ سے زائد کے 10 مطالبات کی منظوری دی گئی جبکہ اپوزیشن کی 280 کٹوتی کی تحاریک بحث کل ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل