Loading
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب بظاہر چند گھنٹوں پر مشتمل سفارتی سرگرمی اپنے اندر عشروں کے تعطل کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قطر اور پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات اسی نوعیت کے ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ پیش رفت محض دو ممالک کے درمیان رابطے کی بحالی نہیں بلکہ ایک ایسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے جنگوں، پراکسی تنازعات، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کی زد میں ہے۔ اس تناظر میں اگرچہ حتمی نتائج کے بارے میں کوئی قطعی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہمیشہ بندوق کے دہانے سے زیادہ امید افزا راستہ ثابت ہوتی ہے۔
ایران اور امریکا جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانا کسی بھی سفارتی کوشش کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ یہ کامیابی اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے روابط کو اس انداز میں برقرار رکھا جس سے اسے اعتماد سازی کے عمل میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ اس تناظر میں قطر کے تعاون نے بھی اس سفارتی کوشش کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مذاکرات کے دوران جن موضوعات پر گفتگو ہوئی، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین اب صرف فوری تنازعات کے بجائے وسیع تر استحکام کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ لبنان میں جنگ بندی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز کی سلامتی جیسے معاملات درحقیقت پورے خطے کی سیاسی اور معاشی حرکیات سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے ہر مسئلہ اپنی جگہ ایک مستقل بحران کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے حل کی سمت پیش رفت کئی دوسرے تنازعات کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
خصوصاً لبنان کا معاملہ اس وقت اس سفارتی عمل کا سب سے نازک پہلو دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران وہاں جاری کشیدگی نے ہزاروں جانیں نگل لی ہیں، لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے اور ریاستی ڈھانچے کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے لبنان کو مذاکراتی عمل کے مرکز میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تہران اس مسئلے کو اپنے وسیع تر علاقائی مفادات سے الگ نہیں سمجھتا۔ دوسری طرف امریکا بھی جانتا ہے کہ اگر لبنان میں مستقل جنگ بندی ممکن نہ ہوئی تو کسی وسیع تر مفاہمت کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بڑی حد تک میدانِ جنگ کی صورتحال پر بھی ہوگا۔یہ امر تشویش سے خالی نہیں کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ سخت بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ بھی جاری ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی گئی تنبیہات اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختیار کی گئی جارحانہ زبان اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مذاکراتی ماحول اب بھی نازک ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سفارت کاری صرف ملاقاتوں اور مشترکہ اعلامیوں سے آگے کی چیز ہے۔
اس کی کامیابی کے لیے سیاسی قیادتوں کو تحمل، تدبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، اگر مذاکراتی عمل کو دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے تو اعتماد سازی کی بنیاد کمزور پڑ سکتی ہے۔ ایران کے لیے پابندیوں کا خاتمہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ توانائی کی برآمدات محدود ہوئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھا۔ اگر واقعی تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد رکاوٹوں میں کمی آتی ہے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس سے ایرانی معیشت کو نئی توانائی مل سکتی ہے۔ تاہم معاشی بحالی صرف پابندیوں کے خاتمے سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے اندرونی اصلاحات، سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور عالمی اعتماد کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ معاشی ترقی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہوتے ہیں۔
عالمی منڈیوں کا فوری ردعمل اس پیش رفت کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ مذاکرات کی مثبت خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور دنیا کے مختلف حصوں میں اسٹاک مارکیٹوں کی بہتری اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی سرمایہ کار امن اور استحکام کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی گزشتہ چند برسوں سے مسلسل بے یقینی کا شکار رہی ہے۔ جنگوں، پابندیوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کیا۔ ایسے ماحول میں اگر مشرقِ وسطیٰ کے اہم تنازعات میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت کے بڑے حصے کو متاثر کرے گا۔آبنائے ہرمز کی اہمیت اس پورے منظرنامے میں خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔
دنیا کی توانائی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت، صنعتی پیداوار اور صارفین کی قوتِ خرید پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے کے کھلے رہنے کے بارے میں کسی بھی پیش رفت کو عالمی سطح پر مثبت نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر اس حوالے سے پائیدار انتظامات وجود میں آتے ہیں تو توانائی کی منڈی میں استحکام کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس سفارتی کردار کے کئی پہلو ہیں۔ ایک جانب اسے عالمی سطح پر ایک ذمے دار ریاست کے طور پر پیش ہونے کا موقع ملا ہے، دوسری جانب یہ کامیابی اس کے لیے نئی ذمے داریوں کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کسی بھی ثالث کی کامیابی کو اسی وقت تسلیم کرتی ہے جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کردار کو آگے بڑھائے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، تدبر اور تسلسل کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ سفارتی کامیابیوں کو داخلی استحکام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط معیشت، سیاسی ہم آہنگی اور مؤثر ادارے ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر زیادہ بااثر بناتے ہیں۔قطر کا کردار بھی اس تمام عمل میں نمایاں رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں دوحہ نے خود کو ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر منوایا ہے جہاں متحارب فریقین کے درمیان رابطے ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف مالی وسائل نہیں بلکہ ایک ایسی خارجہ حکمت عملی ہے جو مکالمے کو تصادم پر ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان اور قطر کا مشترکہ کردار اس حقیقت کی مثال ہے کہ عالمی سیاست میں صرف بڑی طاقتیں ہی فیصلہ کن نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات درمیانے درجے کی ریاستیں بھی اعتماد سازی اور تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس سفارتی عمل کے سامنے سب سے بڑا چیلنج علاقائی پیچیدگیاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ صرف ریاستی مفادات کا میدان نہیں بلکہ یہاں مذہبی، نسلی، نظریاتی اور جغرافیائی عوامل بھی گہرے اثرات رکھتے ہیں۔
ایک مسئلے کا حل اکثر دوسرے مسئلے کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے زمینی حقائق میں تبدیلی بھی ضروری ہوتی ہے، اگر لبنان، غزہ اور دیگر حساس محاذوں پر کشیدگی برقرار رہی تو سفارتی کامیابیوں کو پائیدار شکل دینا آسان نہیں ہوگا۔ یہ امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض قوتیں اس عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کریں۔ تاریخ میں متعدد مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ جب تنازعات کے حل کی سنجیدہ کوششیں سامنے آتی ہیں تو ایسے عناصر متحرک ہو جاتے ہیں جو موجودہ کشیدگی کو اپنے مفادات کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔ اس لیے مذاکراتی عمل کو صرف بیرونی دباؤ ہی نہیں بلکہ داخلی سیاسی عوامل سے بھی نمٹنا ہوگا۔ امریکا اور ایران دونوں کے اندر ایسے حلقے موجود ہیں جو ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے حق میں نہیں۔ ان خدشات کو دور کیے بغیر کسی جامع معاہدے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔
اس تمام صورتحال کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کے استعمال کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ فوجی کارروائیاں بعض اوقات فوری نتائج تو پیدا کر دیتی ہیں لیکن وہ مستقل سیاسی حل فراہم نہیں کر سکتیں۔ امن کا راستہ بالآخر مذاکرات، مفاہمت اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، خواہ اس کی منزل ابھی دور ہی کیوں نہ ہو۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق فوری سیاسی فوائد کے بجائے طویل المدت استحکام کو ترجیح دیں۔ جنگیں جیتنے والوں اور ہارنے والوں دونوں کے لیے تباہی لاتی ہیں، جب کہ امن کے ثمرات سرحدوں سے ماورا ہو کر پوری انسانیت تک پہنچتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں کھلنے والا یہ سفارتی دریچہ اگر مستقل راستے میں تبدیل ہو جاتا ہے تو آنے والی نسلیں اسے صرف ایک مذاکراتی اجلاس نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کے طور پر یاد رکھیں گی جب تصادم کے اندھیروں میں مفاہمت کی ایک کرن نمودار ہوئی تھی اور اس نے عالمی سیاست کو ایک نسبتاً محفوظ، متوازن اور پُر امن سمت میں آگے بڑھانے کی بنیاد فراہم کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل