Monday, June 22, 2026
 

گڈ گورننس کا بحران اور غیر معمولی اقدامات

 



شفاف حکمرانی کے نظام کا براہ راست حل اچھی یا بہتر طرز حکمرانی سے جڑا ہوا ہے ۔اسی نقطہ کی بنیاد پر جدید ریاستوں کا نظام آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے پیچھے اصل مقصد جہاں ملک کی حکمرانی کو شفافیت میں تبدیل کرنا ہے وہیں نظام کو عام آدمی کی سوچ و فکر یا ان کے مفادات کے ساتھ جوڑنا ہوتا ہے ۔اسی بنیاد پر حکمرانی کے نظام کی سیاسی ساکھ قائم ہوتی ہے ۔ 2010میں18ویں ترمیم کی منظوری پر یہ ہی سیاسی منطق دی گئی تھی کہ اس ترمیم کی منظوری کے بعد وفاق کے مقابلے میں صوبائی حکومتیں اچھی گورننس یا بہتر حکمرانی میں زیادہ جوابدہ ہوں گی ۔اسی منطق کے تحت وفاق نے سیاسی ،انتظامی اور مالی اختیارات کی تقسیم صوبوں میں منتقل کی تھی ۔اسی بنیاد پر صوبوں کو بھی یہ ذمے داری دی گئی تھی کہ وہ صوبائی خود مختاری کو بنیاد بنا کر مقامی خود مختاری پر توجہ دیں اور خود مختار مقامی حکومتوں کی تشکیل کو سیاسی ،انتظامی اور مالی طور پر مستحکم کریں۔ یہ اصول تین سطحوں کی حکومت پر زور دیتا ہے جن میں وفاقی ، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو یقینی بنانا ہوتا ہے ۔اس وقت دنیا جدیدیت کی بنیاد پر اختیارات کی تقسیم پر زور دیتی ہے ،جب وفاق سے صوبوں اور صوبوں سے اضلاع اور اضلاع سے تحصیل ،ٹاون یا یونین کونسل تک اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے فارمولے پر زور دیتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا مجموعی گورننس کا نظام عدم مرکزیت کی بجائے مرکزیت پر کھڑا ہے ۔ماضی میں وفاق مرکزیت کی بنیاد پر نظام کو چلانے کی کوشش کررہا تھا اور اب تمام صوبے صوبائی مرکزیت کی بنیاد پر نظام کو چلارہے ہیں ۔یعنی صوبائی محض صوبائی حکومتیں ہی نہیں بلکہ صوبائی سطح پر صوبائی وزیر اعلی خود اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے یا وہ ون مین شو کی بنیاد پر نظام چلانا چاہتا ہے ۔اسی طرح بیوروکریسی بھی اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے اور اس نے صوبائی یا اضلاع کی سطح پر خود کو سیاسی نظام کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط اور بالادست کرلیا ہے جس سے گورننس کے نظام میں اور زیادہ بگاڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک مسئلہ صوبائی سطح پر کمپنیوں او ر اتھارٹیوںکی بنیاد پر نظام کو چلانا ہے اور صوبائی حکومتیںسمجھتی ہیں کہ وہ کمپنیوں اور اتھارٹیوں کے نظام کی بنیاد پر اپنا سیاسی تسلط قائم رکھ سکتی ہیں ،اگر صوبائی سطح پر حکومت کمپنیوں یا اتھارٹیوں کی تشکیل کرنا چاہتی ہے تو اس میںمقامی حکومتوں کو نظرانداز کر یا ان کی سرپرستی کوپیچھے چھوڑ کر ایک متبادل سطح کے نظام کو فوقیت دی جا رہی ہے جو خود مختارمقامی حکومتوں کے نظام کے خلاف ہے۔اگر ہم مجموعی طور پر اوپر سے لے کر نچلی سطح تک عام فرد یا آدمی کے مسائل کو دیکھیں تو ان میں سرفہرست مسائل تعلیم،صحت،روزگار، صاف پانی ،سیوریج،مقامی انصاف کی رسائی ،ٹرانسپورٹ،نقل و حمل، پولیس کا نظام ،غربت، بھوک یا خوراک کی کمی ،امن و امان،کھیلوں کے میدان ،سڑکوں کی تعمیر ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ،ترقی کے نام پر تفریق کے پہلو،محرومی کی سیاست،دیہی و شہری تقسیم ،طبقاتی بنیادوں پر حکمرانی کا نظام جیسے مسائل شامل ہیں ۔ یہ مسائل براہ راست مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں ۔لیکن صوبائی حکومتیں اول تو اس نظام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اگر کسی عدالتی یا عوامی دباؤ پر ان مقامی حکومتوں کی تشکیل کی کڑوی گولی کھانی بھی پڑے تو اس نظام کو کمزور،مفلوج اور بے اختیار رکھا جاتا ہے یا یہ سمجھیں کہ عملا یہ نظام صوبائی حکومتوں کی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف یا اس نظام کو پامال کرتی ہیں تو ان کی جوابدہی کا کوئی فورم بھی موجود نہیں ہے ۔وفاق کی سطح پر کوئی ایسا فریم ورک بھی موجود نہیں جو صوبائی حکومتوں کو کسی بھی جگہ پر مقامی حکومتوں کی تشکیل یا اسے مضبوط بنانے پر جوابدہ ہو۔ اسی طرح سے مختلف صوبوں میں مختلف طرز کے نظام میں موجود تضادات ،ٹکراو،پالیسی یا قانون سازی یا اختیارات کے فرق نے بھی ملک کی مجموعی حکمرانی کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے ۔یہ جو ہم نے عالمی سطح پر کئی ترقیاتی منصوبوں پر دستخط کیے ہیں جن میں 2015-30پائیدار ترقی اہداف بھی شامل ہیں اس کے نتائج بھی ہم خراب حکمرانی اور مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے حاصل نہیں کرسکے۔ یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے باوجود صوبائی حکومتیں گورننس کے نظام کی نہ تو کوئی اصلاح کرسکیں ، نہ اصلاحات کرسکیں اور نہ ہی گورننس کے حالات کی بہتری میں لوگوں کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لاسکیں۔اندرون سندھ ، بلوچستان،خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی سطح پر بیشتر اضلاع محرومی کی سیاست کا شکار ہیں ۔آج بھی پاکستان کی آدھی سے زیادہ لڑکیاں ناخواندہ ہیں،غربت کی شرح چالیس یا چوالیس فیصد ہے،ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،گیارہ ملین لوگ بھوک یا خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں،ماحولیاتی آلودگی کے مسائل بڑھ رہے ہیں،دیہی و شہری تقسیم کے اعداد وشمار خوفناک ہیں اور بڑے شہروں کا گورننس کا نظام بگاڑ کا شکار ہے ۔ یہ جو مالیاتی تقسیم میں صوبوں کا حصہ بڑھا ہے اس سے صوبے کوئی بہتر کارکردگی پیش نہیں کرسکے ۔صوبوں کے پاس لوگوں کی معاشی ترقی کا کوئی جامع فریم ورک نہیں ماسوائے خیراتی پروگراموں یا بڑے بڑے ترقی کے نام پر میڈیا پر چلائے جانے والے اشتہارات کے کھیل کے۔ہمارا موجودہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت اور اہمیت کھوبیٹھا ہے اور اس کی موجودگی میں اصلاح کا راستہ تلاش کرنا ممکن نہیں ۔اسی طرح یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ گورننس کے نظام کی اصلاح کے لیے جو بے چینی موجود ہے اس میں ہمیں سیاسی اور معاشی استحکام درکار ہے ۔سیاسی تقسیم کے گہرے سائے اور معاشی ناہمواریوں کی موجودگی میں نہ تو سیاست عملا آگے بڑھ سکے گی اور نہ ہی معیشت۔اسی طرح سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے حالات نے مجموعی طور پر گورننس کے نظام کو متاثر کیا ہے ۔ہمیں گورننس کے نظام کی بہتری کے پہلو کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میں دیکھنا چاہیے اور ایک بڑے فریم کو بنیاد بنا کر گورننس کے نظام کی اصلاح پر توجہ دینی ہوگی۔لیکن پہلے یہ طے کرنا ہوگاکہ ہم کس طرز پر مبنی گورننس کا نظام چلانا چاہتے ہیں اور اس نظام میں عام آدمی کی شمولیت یا حصہ کیا ہوگا۔ کیونکہ جو بھی گورننس کا نظام عام آدمی یا کمزور طبقات کی زندگی میں آسانیاں پیدا نہیں کرسکے گا وہ نظام کیسے لوگوں میں اپنی بنیاد مضبوط کرسکے گا۔اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کا طاقتور طبقہ گورننس کے نظام کی عملا اصلاح چاہتا ہے یا قانون اوراداروںکی حکمرانی اس کا ایجنڈا ہے کیونکہ ایک بڑا تضاد یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ طاقت ور طبقہ اور عوام کی سطح پر پہلے موجود خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے یا ان کا ایک دوسرے پر اعتماد کمزور ہورہا ہے ۔ اس لیے پاکستان میں اچھی حکمرانی کا نظام کا آنا آسان نہیں اور یہ ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں۔اس کی ایک وجہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن کی ترجیحات میں نہ تو عوامی مسائل ہیں اور نہ ہی اصلاحات۔یہ بڑی سیاسی جماعتیں طاقت اور اقتدار کی سیاست کا حصہ بن کر ملک کے سیاسی نظام سمیت گورننس کے نظام کو بھی خراب کرنے کے کھیل کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔اب نہ تو سیاسی جماعتوں کے تھنک ٹینک ہیں اور نہ ہی کوئی نظام کی اصلاح کے لیے بڑی غور وفکر ۔اس لیے سیاسی جماعتوں اور ان کے محدود کردار یا ان کی ذاتی مفادات پر مبنی سیاست نے بھی گورننس کی بہتر بحالی کے عمل کو مشکل بنادیا ہے۔اصل میں ہمارا طاقت ور طبقہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت کا راز اسی میں ہے کہ وہ ہی طاقت کے دائرہ کار میں رہیں اورعوام کو محکوم بنا کر ہی رکھیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی طاقت ور طبقات اور عام آدمی کے درمیان سیاسی،معاشی اور قانونی حقوق کی جنگ جاری ہے لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس جنگ میں عوام کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں ہے،ایسے میں اچھی گورننس کی بحالی کیسے ممکن ہوسکے گی خود ایک بڑے سوالیہ نشان کے طور پر موجود ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل