Loading
صبح کے سات بجے ہیں۔کراچی کے ایک پوش علاقے میں اسمارٹ فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ خودکار پردے سرک جاتے ہیں، کافی مشین گرم ہو جاتی ہے۔ لان کی گھاس پر اسپرنکلر پانی برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ گاڑی دُھلنے کے لیے تیار ہے۔ گھر کے ہر نل، ہر شاور اور ہر مشین سے پانی کی ایک خاموش نہر بہہ رہی ہے،نظر نہ آنے والی، احساس نہ ہونے والی، بے حساب۔بظاہر یہ آسودگی کا منظر ہے،لیکن اگر تاریخ کبھی ہمارے زمانے کا نوحہ لکھے گی، تو شاید وہ یہ لکھے۔ انسان پانی کی کمی کے باعث نہیں، پانی کی فراوانی کے فریب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوا۔
پندرہ برس پہلے، جون 2011ء میں، اِسی جگہ ہم نے یہ انتباہ ریکارڈ کیا تھا۔اُس وقت ہم نے عالمی بینک کے نائب صدر اسماعیل سراگلدین کا وہ جملہ نقل کیا تھا جو انھوں نے 1995ء میں کہا تھا۔ ’’اگر اِس صدی میں جنگیں تیل کے لیے لڑی گئیں تو آیندہ صدی کی جنگیں پانی کے لیے ہوں گی۔‘‘ اُس وقت اقوامِ متحدہ کے سائنس دانوں کی یہ پیشگوئی بھی نقل کی تھی کہ 2025ء تک دنیا کی ایک تہائی آبادی آبی قلت کا شکار ہوگی۔آج 2026 ہے اور وہ پیشگوئیاں اب تاریخ نہیں،تلخ حاضر ہیں۔ میری مراد صرف عیدقرباں پر کراچی میں پانی کا حالیہ بحران نہیں ہے۔
شدید گرمی میں کنکریٹ کے اس جنگل نے انسانوں سے جہاں تازہ ہوا چھینی، وہاں پانی کا آخری قطرہ بھی بند کر دیا۔ یہ تو محض ایک جھلک ہے۔‘‘دنیا کی تقریباً 2.2 ارب آبادی آج بھی محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر، جو صدیوں میں بنتے ہیں، چند عشروں میں خالی کیے جا رہے ہیں۔ گلیشیئر،زمین کے قدرتی آبی بینک،سکڑ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کی تقریباً نصف آبادی سال کے کسی نہ کسی حصے میں شدید آبی دباؤ کا سامنا کرتی ہے،لیکن سوال یہ نہیں کہ پانی کم کیوں ہو رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے، ہم نے اِسے کہاں گُم کر رہے ہیں؟ جدید تہذیب کی پوری عمارت دراصل ’’پوشیدہ پانی پر کھڑی ہے،وہ پانی جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے مگر ہر شے میں شامل ہوتا ہے۔بازار میں رکھی روئی کی قمیض محض کپڑا نہیں، اس کے دھاگوں میں تقریباً گیارہ ہزار لیٹر پانی کی نمی پوشیدہ ہے۔
ایک کلو گندم پیدا کرنے کے لیے تیرہ سو لیٹر پانی درکار ہے، ایک کلو چاول کے لیے تین ہزار لیٹر اور ایک کلو گوشت کے لیے پندرہ ہزار لیٹر تک۔ آپ کی گاڑی کی تیاری میں دس لاکھ لیٹر پانی صرف ہو چکا ہوتا ہے۔اور اب ذرا اُس دنیا کی طرف آیئے ،جسے ہم ’’ ڈیجیٹل انقلاب‘‘ کہتے ہیں۔جب آپ اپنی اسکرین پر ایک سوال ٹائپ کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں جواب دیتی ہے، تو آپ نہیں دیکھ پاتے کہ اِس ڈیجیٹل جادو کے پیچھے کتنا پانی بھاپ بن کر اُڑ رہا ہے۔ مائیکروسافٹ، گوگل اور میٹا کے دیو ہیکل ڈیٹا سینیٹرز کو چوبیس گھنٹے ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن صاف پانی درکار ہوتا ہے۔ تازہ ماحولیاتی رپورٹس کے مطابق اے آئی سے محض دس سے پچاس سوالات پوچھنے کا مطلب ہے کہ ہم پس پردہ آدھا لیٹر صاف پانی ضایع کر چکے ہوتے ہیں۔ تائیوان کی سیمی کنڈکٹر فیکٹری،وہی جو آپ کے موبائل فون کی چِپ بناتی ہے،روزانہ تین کروڑ گیلن ’’الٹرا پیور واٹر‘‘ استعمال کرتی ہے۔
ہمارے مروجہ ماحولیاتی بیانیے میں ایک بڑا دھوکہ پایا جاتا ہے۔عام آدمی کو مسلسل یہ احساسِ جرم دلایا جاتا ہے کہ دانت صاف کرتے ہوئے نل کھلا نہ چھوڑے، فلش ٹینک احتیاط سے چلائے۔ وضو اور غسل میں اتنا پانی اُٹھ رہا ہے۔ یقینا انفرادی اسراف ایک اخلاقی کوتاہی ہے،لیکن اِس بیانیے کے ذریعے اصل مجرموں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام انسانوں کا مجموعی گھریلو استعمال کل دستیاب پانی کا محض آٹھ فی صد ہے۔ باقی بانوے فی صد کارپوریٹ زراعت، بھاری صنعت اور ملٹی نیشنل کمپنیاں نگل جاتی ہیںاور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آبی ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے بھاری صنعتیں اور پانی مانگنے والی فصلیں تیسری دنیا میں منتقل کر دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش، پاکستان اور افریقا کا پانی نچوڑ کر جینز اور گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں، اور پھر یہ مصنوعات مغرب کی پرآسائش منڈیوں کی زینت بنتی ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں سالانہ کروڑوں گیلن بارش کا پانی سمندر میں ضایع ہو جاتا ہے،رین واٹر ہارویسٹنگ کو تعمیراتی قوانین کا لازمی حصہ بنانا آج کی فوری ضرورت ہے۔ کارپوریٹ اداروں پر ’’واٹر آڈٹ‘‘ نافذ کرنا اور ان کے پانی کے استعمال پر ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ صنعتی سطح پر پانی کی ری سائیکلنگ کو قانوناً لازمی قرار دینا اب اختیاری نہیں رہا،لیکن ان تمام اقدامات سے پہلے ایک فکری انقلاب درکار ہے: پانی کو ’’ملکیت‘‘ نہیں، ’’مشترکہ امانت‘‘ سمجھنا۔ پندرہ سال پہلے ہم نے لکھا تھا کہ ’’ذرا سوچیے، اِس دنیا کا مستقبل کیا ہوگا جب پانی ختم ہو جائے گا۔‘‘ آج وہ مستقبل دروازے پر کھڑا ہے۔
اگلی نسلوں کے پاس کوئی ’’اگلا پندرہ سال‘‘ نہیں ہوگا سوچنے کے لیے۔فطرت کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے استحصال کا بدلہ ضرور لیتی ہے۔ ٹیکنو سائنس کی عیش و عشرت اور صنعتی انفجار نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب مزید لیت و لعل کی گنجائش نہیں ہے، اگر آج بھی ہم نے سرمائے کی ملوکیت کے سامنے بند نہ باندھا اور پانی کے تحفظ کو ایک تہذیبی مشن نہ بنایا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی جاہل نوع کے طور پر یاد رکھے گی جس نے چپس اور چمکتی ہوئی گاڑیوں کی خاطر اپنے وجود کا سرچشمہ ہی خشک کر دیا تھا۔ ذرا سوچیے، جب پیاس حلق تک پہنچ جائے گی، تو یہ اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل دنیا کسی کے کام نہیں آئے گی۔تاریخ شاید صرف یہ پوچھے:
جب دریا سکڑ رہے تھے، جب زیر زمین ذخائر خالی ہو رہے تھے، جب پیاس آنے والے کل کے دروازے پر دستک دے رہی تھی،تب تم نے ترقی کے نام پر کیا منتخب کیا تھا؟زندگی؟ یا صرف آسائش؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل