Monday, June 22, 2026
 

مذہب بمقابلہ مذہب (دوسرا اور آخری حصہ)

 



کٹر یہودیوں نے مذہب پر اجارہ داری قائم کر لی تھی۔ یہ اجارہ داری ہمیں متعدد مواقع پر نظر آتی ہے۔ اسلام سے قبل قریش کا اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ وہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ اصل مسئلہ معاشی تھا۔ کعبہ اس وقت تجارت کا مرکز تھا۔ وہاں رکھے گئے بت قریش کی معاشی بالا دستی اور تجارتی اجارہ داری کی علامت تھے۔ وہ ایک ایسا نظام چلا رہے تھے جس میں غریبوں اور غلاموں کا استحصال ہو رہا تھا۔ تو جب اسلام نے مساوات کی بات کہ ایک حبشی غلام اور قریش کے سردار میں کوئی فرق نہیں تو قریش کو اپنا سارا نظام ٹوٹتا ہوا نظر آیا۔ جسے وہ سنت اولین کہہ کر مقدس مانتے تھے۔ انھوں نے توحید کو اپنے سماجی ڈھانچے کے لیے ایک سیدھے خطرے کے طور پر دیکھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انقلابی تحریکیں کامیاب ہو جاتی ہیں اور پرانا نظام ٹوٹ جاتا ہے تو کیا ظالم طبقہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک انتہائی نازک اور المیاتی موڑ ہے۔ ظالم طبقے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟ ڈاکٹر علی شریعتی بتاتے ہیں کہ جب ظالم طبقہ دیکھتا ہے کہ وہ توحید اور حق کو سامنے سے نہیں روک سکتے تو وہ ہتھیار نہیں ڈالتا بلکہ وہ پچھلے دروازے سے اسی نئے مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔ یعنی وہ مذہب کو ہائی جیک کر لیتا ہے۔ وہ مذہب کا نام تو وہی رکھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ اس کی روح مسخ کر کے اس میں پرانے شرک کے تصورات شامل کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرون وسطی کے یورپ میں بھی چرچ اور پادریوں نے جاگیریں قائم کیں۔ ٹیکس لگائے اور مذہب کو خوف اور سماجی کنٹرول کا ہتھیار بنا دیا۔ جسے شریعتی استحصالی مذہب کا نام دیتے ہیں۔ دراصل انیسویں صدی میں چرچ اور پادریوں کا یہ مذہب فیکٹری مالکان اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کر رہا تھا۔ ہائی جیک کیے گئے مذہب کے ذریعے۔ اسی بناء پر کال مارکس نے اپنے دور کے عیسائی مذہب کو عوام کے لیے افیون قرار دیااور علی شریعتی بھی اس کی بات سے کسی حد تک متفق نظر آتے ہیں۔ اس کتاب کا سب سے بصیرت افروز حصہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ مذہب جو بیدار کرتا ہے اور دوسری طرف وہ مذہب جو انسان کو غلام بناتا ہے۔ جب مذہب اس طرح کا ادارہ بن جاتا ہے تو معاشی استحصال کو تقدس کا لبادہ پہنا دیتا ہے۔ علی شریعتی قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بہت حیران کن ماڈل سامنے لاتے ہیں۔ یعنی مال اللہ کا ہے اور اس لیے یہ مال معاشرے کے تمام لوگوں کا ہے۔ استحصال کا مطلب دولت عوام سے چھیننا اور حق کا مطلب اس دولت کو واپس عوام تک پہنچانا ہے۔ اس کی عملی شکل حضرت ابوذر غفاری ؓ کا مشہور قول ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنے گھر میں روٹی نہیں پاتا وہ اپنی تلوار لے کر لوگوں پر ٹوٹ کیوں نہیں پڑتا۔ تاریخ میں ہمیشہ دو مذہب ساتھ ساتھ چلے۔ ایک روح کو بیدار کرنے والا دوسرا سلانے والا۔ یعنی تقدیر کے نام پر ظالم کے سامنے سر جھکانے والا۔ یہ کشمکش آج بھی جاری ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر انسان یہ پہچانے کہ اس کا عقیدہ اسے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے حوصلہ دے رہا ہے یا خاموشی کا سبق پڑھا رہا ہے۔ سانحہ کربلا انتقام تھا ظالمانہ استحصالی نظام کو تباہ کرنے کی کامیاب کوشش کا ۔ جس کے خلاف طویل عرصہ تک سازشیں کی گئیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے فرانس کی مشہور سوبورن یونیورسٹی سے عمرانیات میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل