Loading
روزنامہ ایکسپریس میں 16 جون کو راقم کا ایک کالم شائع ہوا ، جس میں بازار کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ متعدد قارئین نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مزید لکھنے کی درخواست کی، چنانچہ آج ہم اسی بحث کو ایک نئے زاویے ’’صارف‘‘ سے آگے بڑھاتے ہیں۔
بعض مورخین اور ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ صنعتی انقلاب دراصل ’’صارفین کا انقلاب‘‘ تھا۔ بظاہر یہ دعویٰ عجیب محسوس ہوتا ہے کیونکہ صنعتی انقلاب تو مشینوں، کارخانوں اور پیداوار میں اضافے کا نام تھا، مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ پیداوار کا نہیں بلکہ کھپت کا تھا۔
فرض کیجیے ایک گاؤں میں کپڑا بننے والاایک ’’جولاہا ‘‘ کھڈی پر ہاتھ سے کپڑا بنتا تھا۔ وہ سال بھر میں جتنا کپڑا تیار کرتا، اتنا ہی گاؤں والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہوتا۔ پھر ایک دن اس کے پاس ایک مشین آگئی۔ اب وہی کام چند گھنٹوں میں ہونے لگا۔ پیداوار کئی گنا بڑھ گئی، لیکن جلد ہی ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا۔ کپڑا تو بن گیا مگر مزیدخریدار کہاں سے آئیں؟ گاؤں والوں کی ضرورت تو پہلے ہی پوری ہو چکی تھی اور وہ مزید کپڑا خریدنے کو تیار نہ تھے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مشین بیچنے والے نے اس جولاہے کو ایک مارکیٹیئر یعنی مارکیٹنگ والے سے ملوایا۔ اس نے اس کپڑے کو بیچنے کے لیے گاؤں والوں کی ذہنیت کو سامنے رکھتے ہوئے خوبصورت لفظوں میں اشتہار بنایا اور مارکیٹنگ کی جس کے باعث گاؤں والوں نے جو لائے سے مزید کپڑا خرید لیا حالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس خدمت پر جو لائے نے مارکیٹیئر کو اچھی خاصی رقم ادا کی اور اس طرح سے دونوں خوش ہو گئے کیونکہ ان کی جیب میں گاؤں والوں کے پیسے آگئے تھے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب جدید مارکیٹنگ، اشتہارات اور صارفیت کی بنیاد پڑی۔ مسئلہ اب چیزیں بنانا نہیں بلکہ چیزیں بیچنا تھا۔ ضرورتیں محدود تھیں مگر پیداوار لامحدود ہوتی جا رہی تھی، لہٰذا انسان کی خواہشات کو بڑھانا ضروری سمجھا گیا۔
امریکی مصنف وینس پیکارڈ نے اپنی مشہور کتاب The Hidden Persuaders میں یہی نکتہ اٹھایا۔ اس کے مطابق جدید اشتہارات صرف معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ انسانی نفسیات میں داخل ہو کر اس کے فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ خوف، تنہائی، احساس کمتری، خوبصورتی کی خواہش، سماجی قبولیت کی آرزو اور کامیابی کے خواب کو مصنوعات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں ایک صابن صرف صفائی کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ حسن کی علامت بن جاتا ہے۔ ایک گاڑی صرف سفر کا وسیلہ نہیں رہتی بلکہ کامیابی اور وقار کی نشانی قرار پاتی ہے۔
اسی بحث کو اسٹورٹ ایون نے اپنی کتاب Captains of Consciousnessمیں مزید آگے بڑھایا۔ اس کے مطابق جدید سرمایہ دارانہ نظام کو ایسے صارفین درکار تھے جو مسلسل خریدتے رہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا، اشتہارات اور عوامی تعلقات کی پوری صنعت وجود میں آئی۔ اس صنعت نے لوگوں کو یہ باور کرانا شروع کیا کہ خوشی خریدی جا سکتی ہے، کامیابی خریدی جا سکتی ہے اور شخصیت کو مصنوعات کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو یہ دعویٰ کچھ زیادہ مبالغہ آمیز محسوس نہیں ہوتا۔ ہر روز نیا موبائل فون، نیا فیشن، نیا ماڈل، نیا برانڈ اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاتی ہے۔ جو چیز گزشتہ سال جدید تھی وہ آج پرانی قرار دی جاتی ہے۔ صارف ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی واقعی ضرورت نہیں تو لوگ اسے خریدتے کیوں ہیں؟ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان صرف عقل سے نہیں بلکہ جذبات سے بھی فیصلے کرتا ہے۔ اشتہارات اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب کسی اشتہار میں خوبصورت زندگی، کامیاب افراد اور خوشحال خاندان دکھائے جاتے ہیں تو دراصل پیغام یہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ مصنوعات خرید لیں تو آپ بھی اسی دنیا کا حصہ بن سکتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ پہلے اشتہارات صرف اخبار، ریڈیو اور ٹی وی تک محدود تھے، اب ہر موبائل فون ایک ذاتی اشتہاری مرکز بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے الگورتھمز ہماری پسند، ناپسند، تلاش اور گفتگو تک کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پھر ہماری نفسیات کے مطابق اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ گویا اب مارکیٹنگ صرف عوامی نہیں رہی بلکہ انفرادی ہو چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین موجودہ دور کو ’’توجہ کی معیشت‘‘ (Attention Economy) کا دور کہتے ہیں۔ اب کمپنیاں صرف ہماری جیبوں کے لیے نہیں بلکہ ہماری توجہ کے لیے بھی مقابلہ کر رہی ہیں۔ جو ہماری توجہ حاصل کر لیتا ہے، وہ ہماری خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
جرمن فلسفی ایرک فروم نے اپنی کتاب To Have or To Be میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا انسان کی اصل پہچان اس کے ’’ہونے‘‘ میں ہے یا ’’رکھنے‘‘ میں؟ اس کے مطابق جدید معاشرہ انسان کو مسلسل ’’رکھنے‘‘ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ زیادہ دولت، زیادہ اشیاء، زیادہ سہولیات اور زیادہ برانڈز کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔
آج کسی شخص کے بارے میں جاننے کے لیے اکثر سوال یہ ہوتے ہیں کہ وہ کون سی گاڑی استعمال کرتا ہے؟ اس کے پاس کون سا موبائل فون ہے؟ وہ کس علاقے میں رہتا ہے؟ کون سا برانڈ پہنتا ہے؟ گویا کردار، علم، دیانت اور اخلاقیات ثانوی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
فرانسیسی مفکر ژاں بودریار کے مطابق جدید انسان اشیاء ان کی افادیت کے لیے نہیں بلکہ ان کے علامتی معنی کے لیے خریدتا ہے۔ ایک مہنگی گھڑی وقت بتانے کے لیے نہیں بلکہ سماجی مرتبہ ظاہر کرنے کے لیے خریدی جاتی ہے۔ ایک لگژری گاڑی سفر کے لیے نہیں بلکہ حیثیت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یوں اشیاء ایک زبان بن جاتی ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنی شناخت کا اظہار کرتے ہیں۔
بعض محققین اس رجحان کو خاندانی تعلقات میں بھی دیکھتے ہیں۔ گرانٹ میک کریکن اور دیگر سماجی ماہرین نے لکھا ہے کہ جدید صارف معاشرے میں تحائف کو محبت اور تعلق کے اظہار کا اہم ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اب قیمتی تحفہ محبت کی شدت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، اگر آ پ بچے کو سالگرہ پر قیمتی تحفہ نہ دیں تو وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ اس سے محبت نہیں کرتے ، یوں اس سوچ کی بدولت ایک طرف سالگرہ، شادی، عید، ویلنٹائن ڈے اور دیگر مواقعے پر تحائف کی تجارت اربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے تو دوسری طرف انسانی رشتوں میں دراڑ کا باعث بھی۔
متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بہت سے خاندان ایسی اشیاء حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی مالی استطاعت سے باہر ہوتی ہیں۔ قرض، کریڈٹ کارڈز اور اقساط پر خریداری کا بڑھتا ہوا رجحان اسی نفسیات کا نتیجہ ہے۔ لوگ اکثر ضرورت کی بجائے سماجی دباؤ کے تحت خریداری کرتے ہیں ،لہٰذا مسئلہ خریداری یا صارفیت کا نہیں بلکہ بے شعور صارفیت کا ہے۔ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی خواہشات کا مالک رہنے کے بجائے مارکیٹنگ کا تابع بن جاتا ہے۔ جب ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔ جب شخصیت کا معیار کردار کے بجائے برانڈ بن جاتا ہے۔اصل دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم ہر رجحان کو ضرورت نہ سمجھیں اور ہر نئی چیز کو کامیابی کی علامت نہ سمجھیں۔ خریداری کریں، لیکن شعور کے ساتھ۔ اشیاء استعمال کریں، مگر انھیں اپنی شناخت نہ بنائیں۔
آج کے دور کا سب سے اہم سوال شاید یہی ہے کہ کیا ہم اشیاء استعمال کر رہے ہیں یا اشیاء ہمیں استعمال کر رہی ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہم نے بروقت تلاش نہ کیا تو ممکن ہے کہ مستقبل کی سب سے بڑی غلامی زنجیروں کی نہیں بلکہ خواہشات کی غلامی ہو۔ آئیے غور کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل