Tuesday, June 23, 2026
 

پاکستان کی سفارتکاری، عالمی امن کا آغاز

 



بین الاقوامی سیاست کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی پیش رفت نہیں ہوتے بلکہ طاقت، مفادات، حکمت عملی اور ریاستی بصیرت کے پورے منظرنامے کو ازسر ِنو مرتب کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی پیش رفت، پابندیوں میں جزوی نرمی، لبنان کے بحران میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے یقین دہانیاں اور ان تمام معاملات میں پاکستان و قطر کی فعال شرکت اسی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے۔اس پیش رفت کی سب سے اہم جہت یہ ہے کہ اس نے جنگ کی منطق پر سفارت کاری کی برتری کو ایک بار پھر ثابت کیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران عسکری کارروائیوں، اقتصادی دباؤ اور سیاسی دھمکیوں کے باوجود کوئی فریق اپنے تمام اہداف حاصل نہ کر سکا۔ ایران کو مکمل طور پر جھکایا نہ جا سکا اور امریکا بھی اپنے تمام تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں طاقت کی سیاست نے اپنی حدود کا اعتراف کیا اور مذاکرات کی ضرورت ناگزیر بن گئی۔ عالمی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ جنگیں بالآخر ِ مذاکرات کی میز پر ہی اختتام پذیر ہوتی ہیں، البتہ دانشمند قومیں اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری خونریزی اور تباہی سے اجتناب کرتی ہیں۔  حالیہ معاہدے کے ابتدائی خدوخال پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک تدریجی اور محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کی یقین دہانی، جب کہ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی پیداوار، فروخت اور ترسیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی، اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد کسی ایک دستخط یا ایک بیان سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات کی ایک طویل زنجیر سے وجود میں آتا ہے۔ موجودہ مذاکرات اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیے اس تصور کو تقویت دے رہے ہیں کہ حالیہ جنگ کے باوجود ایران کی ریاستی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کا سیاسی نظام قائم ہے، اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا، اس کی میزائل صلاحیتیں موجود ہیں اور خطے میں اس کے اثرات بھی برقرار ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف دراصل اس سوچ کی ناکامی کا اعتراف ہے جو یہ سمجھتی تھی کہ محض عسکری دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنی تمام پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ جدید دنیا میں طاقت کا استعمال نتائج ضرور پیدا کرتا ہے، مگر مستقل اور پائیدار نتائج کے لیے سیاسی حل ناگزیر ہوتا ہے۔ اس پیش رفت کے معاشی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایران دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ کئی برسوں سے عائد پابندیوں نے نہ صرف ایرانی معیشت کو متاثر کیا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی غیر یقینی کیفیت پیدا کی۔ اب اگر ایرانی تیل دوبارہ عالمی منڈی میں زیادہ مقدار میں آتا ہے، اگر منجمد اثاثوں تک رسائی بحال ہوتی ہے اور اگر بین الاقوامی سرمایہ کاری کے راستے کھلتے ہیں تو اس سے ایران کی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا، جس کا فائدہ ترقی پذیر ممالک سمیت پوری دنیا کو پہنچے گا۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی براہِ راست اس کی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، اگر ایران کے ساتھ اقتصادی روابط میں نئی وسعت پیدا ہوتی ہے تو توانائی، تجارت، سرحدی منڈیوں اور علاقائی رابطہ کاری کے متعدد منصوبے دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔ یہ امکانات صرف اقتصادی نہیں بلکہ تزویراتی بھی ہیں کیونکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان رابطے کا ایک اہم پل بننے کی صلاحیت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ اس تمام منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی توجہ کا مستحق ہے۔ ایک عرصے تک عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کا ذکر بیشتر اوقات سلامتی کے مسائل، دہشت گردی یا سیاسی بحرانوں کے تناظر میں کیا جاتا تھا، مگر حالیہ پیش رفت نے پاکستان کی ایک مختلف شناخت کو نمایاں کیا ہے۔ ایران اور امریکا جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں پاکستان کی شمولیت اس امر کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے نہایت متوازن، محتاط اور موثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔  سفارت کاری کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ ایک ریاست متحارب فریقوں کے درمیان قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کر سکے۔ پاکستان کو یہ مقام اس لیے حاصل ہوا کہ اس کے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط بھی موجود ہیں اور امریکا کے ساتھ تزویراتی تعلقات بھی۔ یہ ایک نازک توازن تھا جسے برقرار رکھنا آسان نہیں تھا، مگر حالیہ بحران میں پاکستان نے جس دانش مندی کا مظاہرہ کیا، اس نے اسے عالمی سطح پر ایک ذمے دار اور سنجیدہ سفارتی کردار کے طور پر پیش کیا۔ ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ اسی حقیقت کا عملی اعتراف ہے۔ یہ دورہ محض رسمی آدابِ سفارت تک محدود نہیں بلکہ اس میں تہران کی جانب سے اسلام آباد کے کردار کی قدردانی کا واضح پیغام موجود ہے۔ جب کوئی ریاست کسی نازک بین الاقوامی بحران میں دوسرے ملک کی کوششوں کو تسلیم کرتی ہے تو یہ صرف سیاسی شائستگی نہیں بلکہ اعتماد کے اظہار کی ایک اہم علامت ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کی توثیق سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں قطر کے کردار کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں قطر نے خود کو ایک فعال سفارتی مرکز کے طور پر منوایا ہے۔ افغانستان، غزہ، لبنان اور اب ایران۔امریکا مذاکرات میں اس کی شمولیت اس امر کی دلیل ہے کہ عالمی سیاست میں اثر و رسوخ کا انحصار صرف جغرافیائی حجم یا عسکری طاقت پر نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری پر بھی ہوتا ہے۔ پاکستان اور قطر کی مشترکہ کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ علاقائی ممالک بھی عالمی امن کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔تاہم اس تمام خوش آئند پیش رفت کے باوجود زمینی حقائق کا ادراک ضروری ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان عدم اعتماد کی تاریخ مختصر نہیں۔ دونوں ممالک کے سیاسی حلقوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسرائیل کے تحفظات، خلیجی ممالک کے تزویراتی خدشات، جوہری پروگرام کے پیچیدہ معاملات اور خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی مرحلے پر مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ پیش رفت کو حتمی کامیابی نہیں بلکہ ایک امید افزا آغاز سمجھنا چاہیے۔  اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائی کی آزادی کے اعلانات بھی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ خطہ ابھی مکمل طور پر استحکام سے ہمکنار نہیں ہوا، اگرچہ لبنان کے حوالے سے ایک مشترکہ سیل کے قیام اور علاقائی سالمیت کی ضمانتوں کی بات کی جا رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر امن کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کئی تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کسی ایک بحران کا حل دوسرے بحرانوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔اس تمام صورتحال کا ایک اہم عالمی پہلو بھی ہے۔ چین کی جانب سے مذاکرات کے تسلسل کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی طاقتیں بھی خطے میں استحکام کو اپنے مفاد میں سمجھتی ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈیاں، بحری تجارت، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سب اس خطے کے استحکام سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی اہمیت کا واقعہ ہے۔پاکستان کے لیے اس کامیابی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں توازن، اعتدال اور فعال سفارت کاری ہی پائیدار کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ نئی معاشی راہداریوں، علاقائی اتحادوں اور تزویراتی شراکت داریوں کے اس دور میں وہی ممالک آگے بڑھ سکتے ہیں جو تنازعات کے بجائے روابط کو فروغ دیں اور تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں اسی طرزِ فکر کا مظاہرہ کیا ہے۔  آج جب دنیا یوکرین سے غزہ تک اور افریقہ سے ایشیا تک متعدد بحرانوں میں گھری ہوئی ہے، ایسے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سفارت کاری ابھی زندہ ہے، مکالمے کی قوت ابھی باقی ہے اور عالمی سیاست میں امن کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ یقینا باعث اطمینان ہے کہ اس نے اس عمل میں ایک تعمیری، متوازن اور مؤثر کردار ادا کیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو محض ایک سفارتی واقعے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک وسیع تر قومی وژن کا حصہ بنایا جائے، تاکہ پاکستان مستقبل میں بھی امن، استحکام اور بین الاقوامی تعاون کا ایک معتبر علمبردار بن کر ابھرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل