Friday, June 26, 2026
 

بھارت؛ خاتون سرکاری افسر کے گھر سے ہیرے جواہرات اور کروڑوں روپے نقد برآمد

 



بھارت میں کرپشن اور آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں خاتون تحصیلدار کے گھر اور دیگر ٹھکانوں پر چھاپوں کے دوران گویا ’خزانہ‘ برآمد ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ کہانی ایسی پھولن دیوی کی ہے جو ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کی تحصیل دار اور جوائنٹ سب رجسٹرار ہے۔ جنھیں چند روز قبل 30 لاکھ روپے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران انسدادِ بدعنوانی بیورو نے معطل سرکاری افسر تھماکما سچریتا کے گھر اور دیگر ٹھکانوں پر چھاپے مارے اور کروڑوں روپے نقد، سونا، ہیرے اور پراپرٹی پیپرز برآمد کرلیے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے بتایا کہ سچریتا کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے مقدمے کی ابتدائی تحقیقات میں ان کے اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر موجود اثاثوں کی مجموعی مالیت 5 کروڑ بھارتی روپے سے زائد پائی گئی۔ حکام نے خاتون افسر سے 2.17 ایکڑ زرعی زمین، حیدرآباد میں 3 فلیٹس، 2 رہائشی پلاٹس، ایک ووکس ویگن اور ایک ہنڈائی کریٹا گاڑی برآمد کی۔ علاوہ ازیں تقریباً 1.2 کروڑ روپے مالیت کے سونے اور ہیرے کے زیورات سمیت 12 لاکھ روپے نقد اور بینک اکاؤنٹس میں 38 لاکھ روپے کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ خاتون سرکاری افسر نے ایک جائیداد سے متعلق سرکاری کام نمٹانے کے عوض رشوت طلب کی تھی۔ گرفتاری کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا اور وہ اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔ رشوت کے مقدمے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے ان کے مالی معاملات کی الگ سے چھان بین شروع کی جس میں یہ انکشاف ہوا کہ انہوں نے سرکاری ملازمت کے دوران اپنی قانونی آمدن سے کہیں زیادہ مالیت کے اثاثے جمع کیے۔ تحقیقات میں پایا گیا کہ برآمد ہونے والی جائیدادیں اور دیگر اثاثے کسی اور کے نام پر خریدے گئے تھے یا نہیں جبکہ حکام ان کے بینک لین دین، سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اگر مزید بے ضابطگیوں کے شواہد ملے تو مقدمے میں نئی دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل