Loading
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کے 3 ججوں نے ایک بار پھر استغاثہ کو رشوت کا الزام واپس لینے کی سفارش کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے یہی سفارش 3 سال قبل بھی کی تھی اور اس وقت بھی کہا تھا کہ رشوت کے الزام کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وکیل امیت حداد نے عدالت کو بتایا کہ اگر رشوت کا الزام مقدمے کا حصہ رہا تو مزید سیکڑوں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا ہوں گے۔ جس سے 2020 میں شروع ہونے والا مقدمہ مارچ 2028 تک بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔
اسی سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے کی کارروائی تیز کرنے کے لیے ہفتے میں پانچ روز سماعت کی تجویز بھی پیش کی تاہم استغاثہ اور دفاع دونوں نے اس پر اعتراض کیا۔
نیتن یاہو کے وکیل نے اس تجویز کا موازنہ نازی رہنما ایڈولف آئخمن کے مقدمے سے کرتے ہوئے کہا کہ اتنی مسلسل سماعتیں مناسب نہیں ہوں گی۔
استغاثہ کے مطابق نیتن یاہو نے بطور وزیراعظم اور وزیر مواصلات ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بیزک کے بڑے شیئر ہولڈر شاؤل ایلووچ کو ایسے سرکاری ریگولیٹری فیصلوں سے فائدہ پہنچایا جن کی مالیت کروڑوں شیکل تھی۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں مبینہ طور پر ایلووچ کی ملکیت رکھنے والی نیوز ویب سائٹ والا نے نیتن یاہو اور ان کے خاندان کو مثبت میڈیا کوریج فراہم کی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم پر عائد تین بڑے کیسز میں سے رشوت کا الزام صرف ایک کیس 4000 میں شامل ہے جسے بیزک-والا کیس بھی کہا جاتا ہے جب کہ دیگر دو مقدمات میں دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد ہیں۔
نیتن یاہو کو کیس 1000 میں دولت مند کاروباری شخصیات سے قیمتی تحائف لینے اور کیس 2000 میں ایک اخبار سے مثبت کوریج کے بدلے اس کے حریف اخبار کی اشاعت محدود کرنے کے لیے مبینہ سودے بازی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو جو سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات سیاسی محرکات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل