Loading
امریکا کے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں سیکشن 224 کی شمولیت کا بِل منظور ہونے کے بعد امریکا نے اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکشن 224 دونوں ممالک کے درمیان کئی جدید فوجی شعبوں میں دفاعی اور تکنیکی تعاون کو وسعت دیتا ہے۔
اس سیکشن کا مقصد مصنوعی ذہانت، سائبرسیکیوریٹی، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈرونز اور جدید دفاعی نظاموں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ مزید برآں، یہ فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجیز کے لیے مشترکہ تحقیق، ترقی اور پیداواری پروگراموں کی حمایت کرتا ہے۔
اسرائیلی نواز امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ اقدام فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرے گا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ یہ جدت طرازی اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کوششوں کو متحد کرکے خطے میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مدد کرے گا۔
تاہم اس کے برعکس اس ایکٹ کو بعض ماہرین اور محققین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس تعاون کو وسعت دینے سے اسرائیل کو امریکی دفاعی صنعت میں زیادہ مداخلت کا اختیار مل سکتا ہے۔
آرٹیکل 224 امریکی کانگریس میں زیر بحث بل کا حصہ ہے جو ابھی تک نافذ العمل نہیں ہوا ہے۔ اس کی حتمی منظوری سے قبل ضروری قانون سازی کے طریقہ کار کو مکمل کرنا ضروری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل