Loading
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث فرانس میں اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں پیرس کے مردہ خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش کم پڑ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تدفین کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ سینکڑوں فون کالز موصول ہو رہی ہیں، لیکن سرد خانوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث بعض لاشوں کو فرانس کے دیگر شہروں میں منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔
فرانس کی قومی صحت ایجنسی کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 24 جون سے اب تک تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جس کی بڑی وجہ گرمی کی شدید لہر ہے جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ افراد 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ ہیں۔
پیرس کے ایک مردہ خانے کے منتظم نے بتایا کہ ان کے سرد خانے کی تمام 32 جگہیں بھر چکی ہیں اور انہیں مسلسل آنے والی درخواستوں کو مسترد کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بقول ہم ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
فرانسیسی حکام نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے ہونے والی اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ نرسنگ ہومز اور نجی رہائش گاہوں سے مکمل معلومات ابھی موصول نہیں ہوئیں۔
اگرچہ فرانس کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت کم ہونا شروع ہو گیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے صحت پر اثرات کئی دن تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یہ گرمی کی لہر مغربی یورپ کی تاریخ کی شدید ترین لہر میں شمار کی جا رہی ہے جس نے فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل