Tuesday, June 30, 2026
 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، اہم فیصلے کرلیے گئے

 



وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، کابینہ نے خیبرپختونخوا لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس رولز 2021 میں ترمیم کی منظوری دے دی، جس کی منظوری سے شہداء کے ورثاء کے لیے لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اور سکسیشن سرٹیفکیٹس کے حصول پر تمام مقررہ فیس مکمل طور پر معاف کر دی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے مسلح افواج، پولیس، نیم فوجی دستوں، دورانِ ڈیوٹی شہید ہونے والے سرکاری ملازمین اور دہشت گردی یا مسلح تصادم میں شہید ہونے والے شہریوں کے ورثاء مستفید ہوں گے۔ کابینہ نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے موضع رٹہ کلاچی میں نادرا آفس کے قیام کے لیے دو کنال سرکاری اراضی نادرا کے نام منتقل کرنے کی منظوری دے دی، کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا فِسکل رسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ مینجمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت ڈیبٹ مینجمنٹ کمیٹی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جو صوبے میں قرضوں کے مؤثر انتظام سے متعلق پالیسی سازی کرے گی۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ میں ڈیجیٹل گورننس اینیبلمنٹ یونٹ (Digital-GEU) کے قیام کی منظوری دی گئی، جو سرکاری محکموں میں ڈیجیٹل نظام کے مؤثر استعمال کو فروغ دے گا۔ صوبائی کابینہ نے 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے پبلک ریسورسز فار اِنکلیوسیو ڈویلپمنٹ (PRID) پروگرام کی بھی منظوری دے دی، جس کے تحت محصولات میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں بہتری اور مالیاتی و سروس ڈیلیوری کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کابینہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے متعلق صوبے کے مقدمے کی لیگل خدمات کے لیے 3 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔ اس مقصد کے لیے محکمہ خزانہ کو ضرورت کے مطابق قانونی فرم یا نجی وکیل مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ ایجوکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1971 کا اطلاق ماڈل اسکول بٹگرام تک بڑھانے کی منظوری دی، صوبائی کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ڈرائیونگ اسکول کو بند کرنے اور اس کے عملے کو ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ میں قائم کیے جانے والے نئے ڈرائیونگ سیل میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے "بارانی علاقوں میں پانی کے تحفظ" کے منصوبے کو باضابطہ طور پر بند کرنے، اس کے تحت 2 کروڑ 69 لاکھ 95 ہزار روپے کے واجبات اور 27 لاکھ 73 ہزار روپے کی بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2015 میں ترامیم کی منظوری دی گئی تاکہ کمیشن کے ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور صوبے میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔ کابینہ نے گورنمنٹ جنرل ہسپتال نشترآباد پشاور کی بلا تعطل فعالیت کے لیے جولائی تا دسمبر 2026 کے دوران 15 کروڑ 17 لاکھ روپے سے زائد فنڈز جب کہ جنوری تا جون 2027 کے لیے 17 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد بجٹ حد مقرر کی، ساتھ ہی موجودہ آپریشنل معاہدے میں 31 دسمبر 2026 تک توسیع اور اس دوران ہسپتال کو ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ذریعے آؤٹ سورس کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں ریجنل پروفیشنل ڈویلپمنٹ سنٹر کی موجودہ عمارت میں میڈیکل کالج قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔ صوبائی کابینہ کی قائمہ کمیٹی کی سفارش پر محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے نارکوٹکس کنٹرول ونگ کے اہلکاروں کو بھی نظرثانی شدہ شہداء پیکیج 2025 دینے کی منظوری دی گئی، یہ سہولت نارکوٹکس ونگ کو باقاعدہ یونیفارم فورس قرار دیے جانے کے بعد نافذ ہوگی۔ کابینہ نے غیر تیار شدہ تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) سے متعلق سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کی مؤثر پیروی کے لیے ایک سینئر آئینی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ محکمہ قانون، ایکسائز، زراعت اور خزانہ کو زرعی سیس یا دیگر متبادل قانونی طریقۂ کار سے متعلق تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں نیب کی جانب سے برآمد ہونے والے سونے کی خالصتاً جانچ اور قیمت کے تعین کے لیے رجسٹرڈ اسائر (Assayer) کے ذریعے باقاعدہ طریقۂ کار کی منظوری دی۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان منٹ لاہور سے مشاورت بھی کی جا رہی ہے تاکہ سونے کی جانچ اور فروخت کا عمل شفاف اور مقررہ ضابطوں کے مطابق انجام دیا جا سکے۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا کامرس اینڈ ٹریڈ اسٹیٹسٹکس رولز 2026 کی بھی منظوری دی، شفیع جان۔ خیبرپختونخوا کابینہ نے وادی تیراہ کے 6,900 اضافی جی آر سی سے تصدیق شدہ عارضی طور پر بے گھر خاندانوں (TDPs) کے لیے 5 ارب 49 کروڑ 99 لاکھ 97 ہزار روپے کے اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ رقم متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی اور ان کے مقررہ ماہانہ فوڈ سپورٹ الاؤنس کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل