Tuesday, June 30, 2026
 

جگن کاظم نتھیا گلی اور مری میں پھیلے کچرے پر برہم، سیاحوں کو سخت پیغام

 



اداکارہ اور ٹی وی میزبان جگن کاظم نے مری سے نتھیا گلی جانے والے قدرتی ٹریکس پر سیاحوں کی جانب سے پھیلائے گئے کچرے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے ماحول کو صاف رکھنے کی اپیل کی ہے۔ جگن کاظم نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ٹریک پر بکھری ہوئی پلاسٹک کی بوتلیں، ریپرز اور دیگر کچرا دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ملک کے حالات کیوں نہیں بدلتے، لیکن جب تک ہم خود اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے، بہتری کیسے آئے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر شخص اپنا کچرا خود اٹھا کر مناسب جگہ پر پھینکے تو ماحول کو صاف رکھنا مشکل نہیں۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ عام طور پر سوشل میڈیا پر سخت لہجہ اختیار نہیں کرتیں، مگر اس مسئلے کی سنگینی انہیں کھل کر بات کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ماحولیاتی آلودگی صرف گندگی تک محدود نہیں بلکہ یہی رویے موسمی تبدیلیوں کو بھی تیز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج گرمیوں میں ژالہ باری اور سردیوں میں غیر معمولی گرمی جیسے حالات بھی اسی ماحولیاتی بگاڑ کا نتیجہ ہیں، جس میں ہم سب کا کردار شامل ہے۔         View this post on Instagram                       جگن کاظم نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خوبصورت دنیا عطا کی ہے، لیکن اگر ہم اس کی حفاظت نہیں کریں گے تو اس کے نتائج بھی ہمیں ہی بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کرنا بھی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اپنی پوسٹ کے اختتام پر انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ خوبصورت مقامات سے صرف یادیں اور تصاویر ہی نہیں بلکہ اپنا کچرا بھی ساتھ واپس لے کر جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سکون اور صفائی کی تلاش میں سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں، اس لیے وہاں اپنی گندگی چھوڑ کر دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا نہ کریں۔ جگن کاظم کی یہ اپیل سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد کو پسند آئی۔ متعدد افراد نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہری ذمہ داری اور صفائی کا شعور فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ سیاحتی مقامات پر کچرا پھیلانے والوں کے خلاف جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ ماحول کو آلودہ کرنے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل