Loading
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ نیب مقدمات میں قید تنہائی نہیں ہوتی۔ میں نے دونوں فیصلے دیکھے ہیں، قید تنہائی کی کوئی سزا نہیں ہے۔ پہلے یہ طے کریں گے کہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں۔ اگر درخواستیں قابلِ سماعت قرار پائیں تو پھر جیل حکام کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قید تنہائی کے خلاف علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف جیل قوانین بلکہ بین الاقوامی اصولوں، بالخصوص نیلسن منڈیلا رولز کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ماضی میں کسی درخواست میں قیدِ تنہائی کے خاتمے کی استدعا نہیں کی بلکہ اس کا ذکر صرف پس منظر کے طور پر کیا تھا۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ بشریٰ بی بی سے گزشتہ سات ماہ سے ملاقات نہیں کروائی گئی جبکہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ انہیں روزانہ تقریباً 22 گھنٹے اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا بانی پی ٹی آئی کی عمر 74 برس ہے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو چکی ہے اور دونوں میاں بیوی کی آنکھوں کی سرجری بھی ہو چکی ہے، اس کے باوجود انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی تھی لیکن بشریٰ بی بی سے انہیں سات ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے اعتراض اٹھایا کہ علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں۔ اس لیے ان کی درخواستیں ناقابلِ سماعت ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی قیدِ تنہائی میں نہیں ہیں بلکہ سزا یافتہ قیدیوں سے متعلق معاملات جیل رولز کے تحت نمٹائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی درخواست دائر کرنے سے پہلے درخواست گزاروں نے جیل حکام سے رجوع بھی نہیں کیا۔
جوابی دلائل میں سلمان صفدر نے کہا کہ اگر حکومت قیدِ تنہائی سے انکار کرتی ہے تو عدالت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طلب کر کے خود ان سے حالات معلوم کر سکتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کو وکلا تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔
وفاق، نیب اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت سے درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل