Loading
انڈونیشیا کی عدالت نے معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوجیک (Gojek) کے شریک بانی اور سابق وزیر تعلیم ندیم مکرم کو کروم بک لیپ ٹاپ خریداری میں بدعنوانی کے مقدمے میں سزا سنادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 41 سالہ ندیم مکرم نے عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی تھی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سابق وزیر تعلیم نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود سرکاری خریداری کے عمل کو متاثر کیا۔
عدالت نے کرون بک کی خریداری کیس میں سابق وزیر تعلیم ندیم مکرم کو 10 سال قید اور 809 ارب انڈونیشین روپیہ (تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر ندیم مکرم بھاری جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہے تو انھیں مزید 5 سال قید کاٹنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ان پر ایک ارب انڈونیشین روپیہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا جس کی عدم ادائیگی پر مزید 190 دن قید کی سزا ہوگی۔
مقدمہ کیا تھا؟
یہ مقدمہ 2021 اور 2022 کے دوران انڈونیشیا کی وزارت تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے لیے کروم بک لیپ ٹاپ خریدنے سے متعلق تھا۔
وزارت تعلیم نے 2018 میں خود یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کروم بک کمپیوٹرز کے مؤثر استعمال کے لیے مستقل انٹرنیٹ درکار ہوتا ہے جبکہ انڈونیشیا کے متعدد دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے اس لیے یہ خریداری مناسب نہیں تھی۔
پراسیکیوٹرز کا الزام تھا کہ ندیم مکرم نے 2020 میں گوگل حکام سے ملاقات کے بعد خریداری کے معیار اس انداز سے مرتب کیے کہ صرف گوگل کے کروم او ایس پر مبنی لیپ ٹاپ ہی اہل قرار پائیں جس سے گوگل کو غیر معمولی فائدہ پہنچا۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے قومی خزانے کو تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ ندیم مکرم نے ذاتی طور پر سرکاری رقم اپنے استعمال میں لائی تاہم انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ان کے فیصلوں میں واضح مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔
عدالت کا ماننا تھا کہ کیونکہ وہ وزارت سنبھالنے کے بعد بھی گوجیک میں اقلیتی حصص کے مالک تھے جبکہ گوگل اس کمپنی کے سرمایہ کاروں میں شامل تھا۔
دوسری جانب ندیم مکرم کا مؤقف تھا کہ گوگل کی گوجیک میں سرمایہ کاری کا اس خریداری سے کوئی تعلق نہیں تھا اور کروم بک کے انتخاب سے حکومت کے اخراجات میں کمی آئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس رقم کا الزام لگایا گیا وہ کبھی ان کے ذاتی استعمال میں نہیں آئی بلکہ کمپنی کے اکاؤنٹس میں موجود رہی۔
فیصلے پر ردعمل
عدالت سے باہر آتے ہوئے ندیم مکرم جذباتی دکھائی دیے اور انہوں نے اپنے حامیوں کو گلے لگایا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آج اپنے احساسات کو کن الفاظ میں بیان کروں۔ مجھے نہیں معلوم انصاف کے لیے کس سے رجوع کروں، میری امید صرف انڈونیشیا کے عوام سے وابستہ ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت بھی عدالت کے باہر موجود ندیم مکرم کے حامیوں جن میں گوجیک کے متعدد ڈرائیور بھی شامل تھے نے شدید احتجاج کیا اور ان کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کرگیا
اس مقدمے نے انڈونیشیا میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ندیم مکرم کے خلاف شواہد کمزور ہیں اور ممکن ہے بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو سیاسی مخالفین یا ناقدین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہو۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نوجوان پیشہ ور افراد میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ حکومت میں شامل ہو کر اصلاحات لانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گوجیک کمپنی
یاد رہے کہ نادیم مکارم نے 2019 میں گوجیک چھوڑ کر سابق صدر جوکو ویدودو کی حکومت میں وزیر تعلیم کا منصب سنبھالا تھا، جہاں وہ 2024 تک خدمات انجام دیتے رہے۔
گوجیک آج جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے تقریباً 17 کروڑ صارفین ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دیگر آن لائن خدمات کے لیے اس ایپ سے استفادہ کرتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل