Loading
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے امکان کے گرد پھیلی غیر یقینی صرف دو ریاستوں کے باہمی تعلقات کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی توازن، عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ساکھ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب جنگ کے بادل افق پر منڈلا رہے ہوں، جب اعتماد کی فضا مسلسل مجروح ہو رہی ہو اور جب ہر بیان کے جواب میں ایک تردیدی بیان سامنے آ رہا ہو، تو ایسی صورت حال عالمی برادری کے لیے بھی اضطراب کا سبب بنتی ہے۔
دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے امریکا اور ایران کے متضاد بیانات نے اسی اضطراب کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایک طرف وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ اعلان سامنے آتا ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں شریک ہوں گے، جب کہ دوسری طرف ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس دعوے کی واضح تردید کرتے ہیں۔ یہ تضاد صرف معلوماتی ابہام نہیں، بلکہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ اعتماد سازی کا عمل ابھی نہایت نازک مرحلے میں ہے۔بین الاقوامی تعلقات میں مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ الفاظ سے پہلے ارادوں پر کھلتا ہے، اگر ارادے متزلزل ہوں تو سفارتی بیانات محض رسمی کلمات بن کر رہ جاتے ہیں۔
ایران اور امریکا کی دہائیوں پر محیط کشیدگی میں یہی سب سے بنیادی مسئلہ رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے عزائم پر کامل اعتماد نہیں رکھتے۔ ایک جانب واشنگٹن کی اسٹرٹیجک ترجیحات ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ برقرار رکھنا، اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا اور توانائی کے عالمی بہاؤ کو محفوظ رکھنا شامل ہے؛ دوسری جانب تہران اپنی خودمختاری، علاقائی اثر پذیری اور قومی وقار کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کا خواہاں ہے۔ جب ایسے دو متضاد مزاج رکھنے والے ممالک مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو محض ایک ملاقات یا ایک یادداشت دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مکالمے کا تسلسل تصادم کے امکانات کم کرتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کی ثالثی سے 17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت تھی۔
پاکستان نے ایک ایسے وقت میں رابطے کا پل تعمیر کرنے کی کوشش کی جب خطہ بداعتمادی، عسکری تناؤ اور پراکسی تصادم کے دباؤ میں تھا۔ یہ سفارتی کردار پاکستان کے لیے محض علاقائی ذمے داری کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع تر امن پسند وژن کی عکاسی بھی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کا حل عسکری کارروائیوں میں نہیں بلکہ مکالمے، اعتماد سازی اور سیاسی بصیرت میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی کوششوں کو خطے میں مثبت نظر سے دیکھا گیا، تاہم مفاہمتی عمل کے فوراً بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ اور اس کے بعد امریکا و ایران کے درمیان جوابی کارروائیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ امن کا راستہ ابھی بھی کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان کہ’’مفاہمت دوطرفہ معاملہ ہے‘‘ دراصل سفارت کاری کے بنیادی اصول کی ترجمانی کرتا ہے۔ مفاہمت کبھی یکطرفہ رعایت کا نام نہیں ہوتی؛ یہ باہمی احترام، ذمے داری اور اعتماد کے ستونوں پر قائم ہوتی ہے، اگر ایک فریق یادداشت پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہ ہو تو دوسرا فریق بھی پیچھے ہٹنے لگتا ہے۔ پزشکیان کا یہ کہنا کہ عقل و دانش اور انسانی وقار کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنایا جائے، دراصل اس پیغام کا اظہار ہے کہ تہران برابری اور خودداری کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے۔ یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران کے لیے مذاکرات صرف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے یا منجمد اثاثوں کی واپسی تک محدود نہیں، بلکہ یہ قومی وقار، علاقائی خودمختاری اور سیاسی تسلیم شدگی سے بھی وابستہ ہے۔
قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر جاری ہونے کی متوقع پیش رفت بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ مالی وسائل کی بحالی ایران کے لیے معاشی ریلیف کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ ایسے اقدامات اعتماد سازی کی عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جب اقتصادی رعایتیں، تکنیکی مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو امن کے امکانات بڑھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے مشرقِ وسطیٰ میں ہر امن کوشش کے سامنے ایسے عناصر موجود رہتے ہیں جو کشیدگی کو کم ہونے نہیں دینا چاہتے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کئی علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں ایران اور امریکا کے درمیان کسی پائیدار مفاہمت کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں۔ ان قوتوں میں سب سے نمایاں نام اسرائیل کا ہے۔ اسرائیلی قیادت طویل عرصے سے ایران کو اپنے وجودی خطرے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔
اس بیانیے نے نہ صرف عسکری حکمت عملی کو شکل دی بلکہ عالمی سفارتی ماحول پر بھی اثر ڈالا۔ اسرائیل کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم ہو گئی تو خطے میں طاقت کا موجودہ توازن بدل سکتا ہے۔ اسی لیے ہر وہ پیش رفت جو واشنگٹن اور تہران کو قریب لائے، بعض حلقوں میں تشویش پیدا کرتی ہے۔لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت اسی بڑے منظرنامے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ جنوبی لبنان میں مسلسل حملے اور سرحدی کشیدگی نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ پورے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر بھی لا سکتی ہے۔ جب ایک جانب مذاکرات کی بات ہو رہی ہو اور دوسری طرف عسکری کارروائیاں جاری ہوں تو اعتماد سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
جنگی ماحول سفارتی فضا کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان، غزہ اور شام میں جاری کشیدگی کو ایران امریکا مذاکرات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔فلسطین کے مسئلے نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ہر کوشش کو پیچیدہ بنایا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا یہ انتباہ کہ اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطرہ ہے، ایک نہایت اہم حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہزاروں نئے رہائشی یونٹس کی منظوری دو ریاستی حل کے تصور کو کمزور کر رہی ہے۔ جب زمین پر حقائق مسلسل تبدیل کیے جا رہے ہوں، جب آبادکاری کے ذریعے فلسطینی سرزمین کو مزید تقسیم کیا جا رہا ہو، تو مذاکراتی عمل کی معنویت کم ہونے لگتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم کی بندش بھی اسی دباؤ کی ایک شکل ہے، جس کا مقصد فلسطینی اداروں کو کمزور کرنا اور سیاسی مزاحمت کو مفلوج کرنا ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے۔
کیا مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن ایران اور امریکا کے درمیان کسی محدود مفاہمت سے ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب نفی اور اثبات دونوں میں پوشیدہ ہے۔ اثبات اس لیے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ کم ہونے سے کئی علاقائی تنازعات میں درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔ نفی اس لیے کہ اگر فلسطین، لبنان اور شام جیسے بحرانوں کو نظرانداز کیا گیا تو کسی ایک محاذ پر حاصل ہونے والی پیش رفت بھی دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ امن کو جزوی نہیں، جامع ہونا پڑتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ، دھمکی اور طاقت کا استعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔ ایران کو بھی ادراک ہونا چاہیے کہ علاقائی اثر پذیری کے کھیل میں مستقل تصادم داخلی و خارجی دونوں سطحوں پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک اگر واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں بیانات کی جنگ سے نکل کر عملی اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ تکنیکی مذاکرات، اقتصادی رعایتیں، سفارتی ضمانتیں اور علاقائی شراکت داروں کی شمولیت اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسلام آباد ایک ایسے خطے کا حصہ ہے جہاں ہر بڑی سفارتی یا عسکری تبدیلی کے اثرات براہِ راست محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلم دنیا میں مکالمے، مفاہمت اور اعتدال کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی میں سہولت کاری اسی پالیسی کا تسلسل ہے، ایسے وقت میں جب بعض قوتیں دانستہ طور پر بداعتمادی، خوف اور محاذ آرائی کو ہوا دے رہی ہیں، پاکستان جیسے ممالک کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ امن، انصاف اور مذاکرات کی آواز کو کمزور نہ پڑنے دیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں میدانوں میں شروع ہونے سے پہلے ذہنوں میں جنم لیتی ہیں، اور امن معاہدوں پر دستخط سے پہلے ارادوں میں تشکیل پاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور امریکا دونوں اپنے فوری سیاسی مفادات سے بلند ہو کر ایک وسیع تر انسانی اور عالمی ذمے داری کو پیش نظر رکھیں۔ انھیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر تعطل، ہر ابہام اور ہر تردید ان قوتوں کو مضبوط کرتی ہے جو امن کے بجائے تصادم سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
اگر دوحہ مذاکرات واقعی ہوتے ہیں تو انھیں محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بننا چاہیے بلکہ ایک سنجیدہ، نتیجہ خیز اور مرحلہ وار عمل کی بنیاد بننا چاہیے، اگر مذاکرات فی الحال موخر بھی ہو جائیں تب بھی رابطے منقطع نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ بات چیت کا بند دروازہ اکثر جنگ کی کھڑکی کھول دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ مزید بارود کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس خطے کو اسلحے سے زیادہ بصیرت، محاذ آرائی سے زیادہ مفاہمت اور طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اخلاقی جرات درکار ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی امن کی ضرورت ہے، اور یہی عالمی ضمیر کی آواز بھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل