Loading
ریاست کی مشینری جب عوام کو ریاست کی جانب سے تفویض کیے گئے حقوق سے پہلو تہی کرنے لگے، عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور عوام سے وابستہ ادارے اپنے آئینی اور قانونی فرائض ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیں تو ریاستی نظم و نسق میں بگاڑ پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ عوام کا اعتماد جب سرکاری اداروں سے اٹھنے لگے تو بے چینی جنم لیتی ہیں۔ ایسے حالات میں کبھی کبھار کوئی ایسی شخصیت بھی سامنے آتی ہے جو منصب کو اختیار نہیں بلکہ ذمے داری سمجھ کر نبھانے کی کوشش کرتی ہے۔
انھی حالات کے تناظر میں مجھے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خاں کا کردارنظر آتا ہے۔ مسلسل چوتھی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد انھیں ایوان کی سب سے باوقار آئینی ذمے داری سونپی گئی۔ چار مرتبہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اپنے حلقے سے تعلق صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ مسلسل عوامی رابطے پر استوار ہے۔ ضلع قصور ہمیشہ سے بڑی سیاسی شخصیات کی سرزمین رہا ہے، لیکن ملک احمد خاں نے اپنی شناخت صرف خاندانی پس منظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے طرزِ عمل، شائستگی، دلیل اور پارلیمانی رویے سے قائم کی۔
ملک احمد خاں نے ایوان کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کا مرکز بنانے کی کوشش کی ہے کیونکہ جب ارکان کو اپنی بات کہنے کا موقع ملتا ہے تو بہت سے سیاسی تناؤ اسمبلی کے اندر ہی کم ہو جاتے ہیں۔شاید اسی طرزِ عمل کا نتیجہ ہے کہ جب انھوں نے اسپیکر کی حیثیت سے ایوان کے وقار، پارلیمانی روایات اور غیر جانب داری کو اپنی ذمے داری کا حصہ بنایا تو بعض حلقوں میں مختلف تبصرے بھی سنائی دینے لگے۔ سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جو شخص اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق چلتا ہے ، اس کی نیت اور طرزِ عمل دونوں زیرِ بحث آ جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے منصب کی حرمت برقرار رکھنے کی کوشش کرے تو کیا اسے اسی زاویے سے دیکھا جانا چاہیے؟حقیقت یہ ہے کہ اسپیکر کی کرسی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کے لیے نہیں بلکہ دونوں کے درمیان پارلیمانی توازن قائم رکھنے کے لیے ہوتی ہے جس سے نہ صرف اسمبلی کا وقار برقرار رہتا ہے بلکہ جمہوری عمل بھی مضبوط ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق ملک احمد خاں نے اسی روایت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے ۔
آج کا سیاسی ماحول ماضی سے یکسر مختلف ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے، سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہتا ہے، اور سوشل میڈیا نے ہر لمحے کو نئی سیاسی آزمائش میں بدل دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر ہر فریق کا اعتماد برقرار رکھنا بلاشبہ آسان کام نہیںہے۔کچھ عرصہ قبل ن لیگ کے ایک سینئر سیاسی رہنماء سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو عرض کیا کہ آپ کی سیاسی خدمات اور تجربے کے پیشِ نظر آپ کو کسی بڑے حکومتی منصب پر ہونا چاہیے۔
وہ مسکرائے اور کہنے لگے،’بڑے عہدے تو چند افراد کے لیے مخصوص ہیں، ہم نے تو وزارت پر ہی گزارہ کرنا ہے۔‘ ان کا یہ مختصر جملہ اپنے اندر ایک طویل سیاسی کہانی سموئے ہوئے تھا۔ پارلیمانی نظام صرف حکومت کے مؤثر ہونے سے نہیں چلتا بلکہ ایک باوقار اور مؤثر اپوزیشن بھی اس کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم نے سیاست کے موسم بدلتے بھی دیکھے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بدلتے ہوئے چہرے بھی۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، حالات بھی کروٹ لیتے ہیں اور سیاسی منظرنامے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ بقول رانا ثناء اللہ، ہمارے ایک اور دوست چاہتے تو وزیرِ اعظم بھی بن سکتے تھے۔ سیاست امکانات کا کھیل ضرور ہے مگر امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کردار، برداشت، بصیرت اور وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔اگر آج کے سیاسی ماحول میں ملک احمد خاں ایوان کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کا مرکز بنانے اور پارلیمانی روایات کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اسے ان کی سیاسی بصیرت کا مثبت پہلو سمجھنا چاہیے۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن اسے اداروں کی کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ ملک احمد خاں کی معاملہ فہمی، مدلل انداز گفتگو اورخوشہ چینی کے تو ہم پہلے مداح تھے، اب انھی کی حکومت میں ایک وزیر نے انھیں درس و تدریس کا اضافی وصف بھی عطا کیا ہے جس کی مدح سرائی چہار طرف جاری ہے ۔میرے خیال میں شاید یہی وہ پارلیمانی درس ہے جو ملک احمد خاں کے طرزِ عمل سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ منصب کی اصل عظمت اختیار کے اظہار میں نہیں بلکہ اختیار کے منصفانہ استعمال میں پوشیدہ ہوتی ہے اور تاریخ ہمیشہ انھی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل