Tuesday, June 30, 2026
 

میڈونا ہور کامپلیکس اور عہد یوسفی

 



انسانی تہذیب کی تاریخ گواہ ہے کہ ہنسی اور آنسو، دونوں کا تعلق انسانی وجود کے گہرے ترین احساسات سے ہے، لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب ہنسی کسی دوسرے کی تذلیل کا ذریعہ بن جائے اور طنز کا تیر کسی کمزور وجود کے سینے میں جا اترے۔ اردو ادب ہو یا عالمی کلاسیک، طنز و مزاح کے پیرائے میں صنف نازک ہمیشہ ایک ایسا ہدف رہی ہے جس پر تیر اندازی کو معاشرتی اور ادبی جواز فراہم کیا جاتا رہا۔ جب ہم اردو ادب کے درخشندہ دور، جسے مبالغے کے بغیر ’’ عہد یوسفی‘‘ کہا جا سکتا ہے، کا مطالعہ کرتے ہیں تو جہاں اسلوب کی سحرانگیزی اور جملوں کی کاٹ دل موہ لیتی ہے، وہاں ایک گہرا فکری سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارا مزاح زن بیزاری (مسوگینی) اور عورت کے جسمانی وجود کی تحقیر سے یکسر پاک ہے؟ حال ہی میں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی فیس بک وال پر شائع ہونے والی ایک تحریر نے اسی مسئلے کو ایک بار پھر ادبی اور فکری بحث کا موضوع بنا دیا۔  مرد اساس معاشرے میں عورت کے تئیں دہرا معیار ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائیڈ نے اس رویے کو ’’میڈونا ہور کامپلیکس‘‘کا نام دیا تھا۔ ایک طرف ’’میڈونا‘‘ یعنی مقدس، پاکیزہ اور لائق احترام عورت ہے جو گھر کی چاردیواری میں ماں، بہن یا بیٹی کی صورت متمکن ہے، جس کی طرف دیکھنا بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ عورت ہے جسے محض جنسی شے یا تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مرد جس عورت کا احترام کرتا ہے، اس سے جنسی یا جمالیاتی طور پر حظ نہیں اٹھا پاتا اور جس سے حظ اٹھاتا ہے، اس کا احترام کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ ہی نفسیاتی تضاد جب ادب کے کوچے میں داخل ہوتا ہے تو وہ صنف نازک کے جسم، اس کی چال ڈھال، اس کے ابھاروں اور اس کے بڑھاپے کو مضحکہ خیز بنا کر پیش کرنے لگتا ہے۔  اردو ادب کا عہد یوسفی بلاشبہ نثری حسن کا عروج ہے، لیکن جب مشتاق احمد یوسفی، پطرس بخاری، شفیق الرحمن یا ضیاء محی الدین کے ہاں عورت کا ذکر آتا ہے، تو اکثر و بیشتر ان کا زاویہِ نگاہ خالصتاً مردانہ نظرکے تابع دکھائی دیتا ہے۔ یوسفی صاحب کے ہاں ’’آگا اور پیچھا کھلنے‘‘کے استعارے ہوں یا عورت کی عمر اور شادی کے بعد اس کے جسم میں آنے والی تبدیلیوں پر باریک بیں گرفت، یہ سب کہیں نہ کہیں اسی ’’میڈونا ہور کامپلیکس‘‘ کا شاخسانہ معلوم ہوتے ہیں۔  ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یونانی ادب کے عظیم ڈرامہ نگار ’’ارسٹوفینز ‘‘کے ہاں عورتوں پر مبنی جنسی لطیفے اور بازاری جملے عام ملتے ہیں۔ اس کے مشہور ڈراموں جیسے ’’لیسسراٹا‘‘میں اگرچہ عورتوں کو طاقتور دکھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا پورا کردار اور طنز کا محور ان کا جسم، ان کی جنسی خواہشات اور ان کی حیاتیاتی ساخت ہی رہی۔  اسی طرح انگریزی ادب کے بے تاج بادشاہ ولیم شیکسپیئر کے متعدد ڈراموں بالخصوص ان کی کامیڈیز کا معروضی مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی عورت کے جسم، شادی اور جنس پر مبنی مزاح کثرت سے پایا جاتا ہے۔ ’’دی ٹیمنگ آف دی شرو‘‘ جیسے ڈراموں میں عورت کی زبان درازی اور اس کے وجود کو قابو میں لانے کے طریقے مردانہ حاکمیت کی واضح مثالیں  ہیں، جہاں ناظرین عورت کی بے چارگی پر قہقہے لگاتے ہیں۔  فرانسیسی ادب کی طرف قدم بڑھائیں تو وہاں سترہویں صدی کے عظیم مزاح نگار اور ڈرامہ نویس مولیئرکے ہاں بھی عورت پر مبنی ایسا ہی طنز ملتا ہے۔ اس کے ڈراموں ’’دی اسکول فار واؤز‘‘ اور ’’دی لرنڈ لیڈیز‘‘میں ان عورتوں کا بے رحمانہ مذاق اڑایا گیا جو علم حاصل کرنا چاہتی تھیں یا اپنی مرضی کی زندگی جینا چاہتی تھیں۔ مولیئر کا مزاح یہ باور کراتا ہے کہ عورت کا اصل مقام صرف مرد کی خدمت اور اس کی تسکین ہے۔  جدید دور کے آغاز تک مغرب کا سفر جاری رہا اور جدید مغربی مزاح میں یہ زن بیزار روایت مزید جڑ پکڑ گئی۔ بیسویں صدی کے وسط تک مغربی ٹی وی شوز، فلموں اور تھیٹر میں تین طرح کے لطیفے سب سے زیادہ مقبول اور عام تھے۔ 1۔بلونڈ جوکس : جن میں سنہرے بالوں والی خواتین کو خوبصورت لیکن پرلے درجے کی بیوقوف اور احمق بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ 2۔وائف جوکس : جہاں بیوی کو ایک جابر، شکی اور خرچالی مخلوق دکھا کر اس کی مظلومیت یا غصے کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ 3۔سیکریٹری جوکس : جن میں کام کرنے والی خواتین کو محض افسر کی جنسی تسکین اور دفتری تفریح کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا، لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو ایک ’’مضحکہ خیز شے‘‘ میں تبدیل کرنے کا یہ مرض آفاقی رہا ہے اور تقریباً تمام تہذیبوں کی مزاحیہ روایت کا حصہ رہا ہے۔ جب فنکار کی نظر جمالیاتی ذوق سے گر کر ہوس پرستی یا تمسخر کے درجے پر آ جائے، تو وہ حسن کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ وہ عورت کی انسانیت کی نفی ہوتی ہے۔ یوسفی اور دیگر مزاح نگاروں کے ہاں مسئلہ حسن کے ذکر کا نہیں، بلکہ حسن کو تضحیک کا رنگ دینے کا ہے۔  بدقسمتی سے، ادب کے اس تاریک پہلو نے آج ایک زیادہ بھیانک اور مسخ شدہ شکل اختیار کر لی ہے۔ ماضی میں جو غلاظت کتابوں کے صفحات یا بند کمروں کے مشاعروں تک محدود تھی، آج وہ سوشل میڈیا کی چمکتی دمکتی اسکرینوں پر سرِ عام ناچ رہی ہے۔ عصر حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بیویوں کا مذاق بنا کر ریٹنگ اور ویوزلیے جاتے ہیں اور پوری دنیا اسے بڑے مزے سے دیکھتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کے نام نہاد ’’ کانٹینٹ کریٹرز‘‘ نے اپنی ہی شریک حیات کو ایک تماشہ بنا دیا ہے۔ فیس بک ریلز، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر روزانہ ہزاروں ایسی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں جہاں بیوی کو بیوقوف، جھگڑالو، شوہر کی جیب کاٹنے والی یا بدصورت دکھا کر سستا مزاح تخلیق کیا جاتا ہے۔  افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس قبیح حرکت میں خود خواتین کو بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو چند ٹکوں اور ڈیجیٹل شہرت کی خاطر اپنے ہی وجود کی تذلیل پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ مرد اسکرین پر آ کر فخر سے کہتا ہے کہ ’’شادی ایک قید خانہ ہے‘‘ یا ’’بیوی مصیبت ہے‘‘ اور لاکھوں لوگ اس پر ہنستے اور کمنٹس کرتے ہیں۔ یہ اس معاشرتی دیوالیہ پن کی انتہا ہے جہاں رشتوں کا تقدس، ویوز کے الگورتھم کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ’’ عہد مسوجنی‘‘ کا ڈیجیٹل ایڈیشن ہے، جہاں عورت اب صرف کتاب کے صفحے پر نہیں، بلکہ ہر موبائل کی اسکرین پر پٹ رہی ہے۔  ہمیں ادب کے اس نام نہاد سنہری دور کی سحر انگیزی سے باہر نکل کر معروضی سچائیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ مشتاق احمد یوسفی کا نثر پر احسان اپنی جگہ، لیکن عورت کی تذلیل کو ’’مزاح‘‘کا نام دے کر قبول کرنے کا دور اب گزر چکا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسے نئے ادبی اور معاشرتی عہد کی بنیاد رکھیں جہاں ہنسی کے لیے کسی کے جسم کو سیڑھی نہ بنایا جائے، جہاں طنز کے نشتر کسی کی صنف پر نہ چلائے جائیںاور جہاں عورت کو ’’ مارکیٹ‘‘ کا مال سمجھنے کے بجائے، اس کے خالق کی دی ہوئی حقیقی تکریم کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔ اسی میں انسانیت کی بقا ہے اور یہ ہی سچے ادب کی معراج ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل