Thursday, July 02, 2026
 

وزارتِ تجارت کا ایران کے ساتھ مخصوص برآمدات کے لیے 60 روزہ خصوصی رعایت کا فیصلہ

 



وزارتِ تجارت نے ایران کے ساتھ تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مخصوص برآمدی اشیاء پر 60 روزہ عارضی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی منظوری سے برآمدی پالیسی 2022 کی شق نمبر 3 کے تحت بعض مخصوص اشیاء کے لیے بینک کے ذریعے ادائیگی کی لازمی شرط میں عارضی نرمی دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رعایت 2 جولائی سے 30 اگست 2026 تک نافذ رہے گی، جس کے دوران مخصوص برآمدات کے لیے فنانشل انسٹرومنٹ جمع کرانے کی شرط میں بھی عارضی چھوٹ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ براہِ راست بینکاری چینل نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ برآمدی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اس رعایت کے تحت ایران کو فضائی راستے سے کیلا، آم اور گوشت برآمد کرنے والوں کو سہولت حاصل ہوگی، جبکہ زمینی راستے سے چاول، آلو، گوشت، جیلاٹن، مکئی، تل اور مویشیوں کی خوراک کی برآمد پر بھی یہ رعایت لاگو ہوگی۔ ذرائع کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو ایران کے راستے چاول برآمد کرنے والوں کو بھی اسی سہولت سے فائدہ حاصل ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمدی پالیسی 2022 کی شق نمبر 3 کے تحت پاکستان سے ہر برآمد اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے قواعد کے مطابق کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم اس فیصلے کے تحت صرف بینک کے ذریعے ادائیگی کی شرط میں عارضی نرمی دی گئی ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ برآمدات کی رقم پاکستان واپس لانا بدستور لازمی ہوگا، جبکہ برآمد کنندگان کو تحریری یقین دہانی بھی کرانا ہوگی کہ وہ مقررہ مدت میں زرِ مبادلہ ملک میں واپس لائیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ذرائع نے مزید واضح کیا کہ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ مکمل بینکاری نظام بحال کرنے یا ہر قسم کی بینکنگ تجارت کی اجازت دینے سے متعلق نہیں، بلکہ صرف چند مخصوص برآمدی اشیاء کے لیے محدود مدت کی خصوصی رعایت ہے، جبکہ زرِ مبادلہ سے متعلق تمام قوانین بدستور نافذ العمل رہیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل