Loading
اسرائیلی کی بڑھتی جارحیت پر مسلسل خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستانہ رویے سے بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے 2 روز قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اورجنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی تھی۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایران پر حملوں کے دوران بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج توانائی و تجارتی مفادات کے تحت دوبارہ ایران سے قربت اختیار کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مودی نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
اے این آئی کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی اورایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکا 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے۔ مودی نےآبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور تجارتی آزادی کا تحفظ عالمی و بھارتی مفاد قرار دے دیا ۔
عالمی ماہرین کے مطابق بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزادیٔ جہاز رانی پر زور ایران کی حمایت نہیں بلکہ بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا، جس سے واضح ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت نہیں کی اور ایران کی خود مختاری کے دفاع میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی ۔ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کےساتھ شراکت داری، دورانِ جنگ مکمل خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، منافقت اورموقع پرستی کی علامت ہے۔
https://img.express.pk/media/videos/israel_iran_india_02-07-26.mp4
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل