Loading
کراچی کے سائٹ ولیکا اسپتال میں زیر علاج رہنے والے ایک اور بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی، اسی اسپتال میں نوماہ کے دوران ایک ہی محلہ کے ایچ آئی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی، اہل محلہ کا دعویٰ ہے کہ سال بھر میں 9 بچے جاں بحق بھی ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے بنارس سائٹ ایریا میں قائم کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکیورٹی اسپتال سے مبینہ طور پر بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے نے سیکڑوں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کر دیا، یہ صورتحال گزشتہ 9 ماہ سے مسلسل جاری ہے جس میں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
کراچی کے علاقے گولیمار کے رہائشی 9 سالہ بچے عالیان میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ متاثرہ بچے کے والدین نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبارٹری میں ٹیسٹ مثبت آیا ہے بچے کا گزشتہ سال علاج ولیکا اسپتال میں ہوا تھا جہاں وہ تقریباً 20 دن داخل رہا۔ اسی دوران دوسرے بستروں پر زیر علاج بچوں میں بھی ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے جس کی اطلاع موصول ہوتے ہی ہم اسپتال آئے اور ہمارا خدشہ درست ثابت ہوا۔
والدہ کے مطابق اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بچے کی طبیعت مسلسل خراب رہنے لگی تھی۔ متاثرہ بچے کے اہل خانہ نے ولیکا اسپتال کے ڈاکٹروں پر مبینہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غلطی کی وجہ سے آج میرا معصوم بچہ اس مرض میں مبتلا ہوگیا ہے اس کی کیا غلطی؟ اسکول جانے کی عمر میں اسپتال جارہا ہے۔ اس معصوم کو اس مرض کا معلوم ہی نہیں کہ سوسائٹی کس نظر سے دیکھتی ہے۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ 6 سالہ بچے یوسف کے والد فضل احد نے اسپتال میں ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا میرا بیٹا گزشتہ سال بقرعید سے تقریباً ایک ماہ پہلے بیمار ہوا تھا، بچے کو مسلسل بخار اور کمزوری کی شکایت رہتی تھی جس کے بعد اسے متعدد بار ڈاکٹرز کو دکھایا گیا۔ والد کا کہنا ہے کہ یوسف ان کے پانچ بچوں میں سب سے چھوٹا ہے اور اسکول جاتا تھا تاہم بیماری کے باعث اس کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے بعد ازاں ٹیسٹ کے دوران بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے اب ادویات کیلئے اسپتال کے چکرلگاتے ہیں۔
اسی طرح پٹھان کالونی کی رہائشی متاثرہ بچی کی والدہ نشا نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دو بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو آیا ہے جن میں ایک ڈھائی سال کا بچہ اور نو سالہ بیٹی شامل ہیں۔ والدہ کے مطابق بیٹی تعلیمی طور پر بہت اچھی تھی لیکن بیماری کے باعث اس کی پڑھائی شدید متاثر ہوئی ہے ۔بچوں کو مسلسل بخار، جسم میں درد اور کمزوری کی شکایت رہی جس کے بعد ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
متاثرہ خاندانوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ بچوں کو معیاری علاج فراہم کیا جائے اور حکومت سندھ ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے اسپتال لاتے تھے تا کہ مفت علاج ہوسکے مگر بعد میں انہی بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ والدین کے مطابق اب ان کے بچے نہ صرف بیماری سے لڑ رہے ہیں بلکہ سماجی مشکلات کا بھی سامنا کر رہے ہیں اسکولوں میں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، بچوں سے دوری اختیار کی جاتی ہے، محلے کے بچے ان کے ساتھ کھیلنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ بعض پڑوسیوں نے میل جول بھی محدود کر دیا ہے بعض خاندانوں کو علاقے سے منتقل ہونے تک کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال میں علاج کے دوران مبینہ غفلت ہوئی اور انجیکشن لگاتے وقت حفاظتی اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے علیحدہ اور جدید سہولیات سے آراستہ وارڈ قائم کیا جائے۔
اس اسپتال میں ایچ آئی وی کے کیسز کئی ماہ سے رپورٹ ہورہے ہیں مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ستمبر 2025ء میں ایک کیس سامنے آنے کے بعد اپنی سطح پر بھی تحقیقات شروع کیں تھیں۔ ولیکا اسپتال میں چھوٹی بچی میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد یونین کونسل نمبر 1 کے وائس چیئرمین ارشاد خان کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کی درخواست پر اسپتال میں زیر علاج بچوں کی اسکریننگ شروع کی گئی، جس کے ابتدائی مرحلے میں درجنوں بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔
سائٹ ٹاؤن یونین کونسل نمبر 1 کے وائس چیئرمین ارشاد خان نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا اس معاملے کی ابتدا ستمبر 2025ء میں ہوئی جب علاقے کے بچوں میں بار بار بخار، جسم میں درد اور کمزوری جیسی علامات سامنے آنے لگیں۔ ابتدا میں والدین نے اسے عام بیماری سمجھا اور بچوں کا علاج اسپتال سے کرواتے رہے۔ تاہم رواں سال اپریل میں اسپتال کی لیبارٹری میں پہلا ایچ آئی وی کیس سامنے آنے کے بعد صورتحال سنگین ہونا شروع ہوئی اور مزید بچوں کی اسکریننگ کا عمل شروع کیا گیا۔
انہوں ںے کہا کہ اسپتال کی لیبارٹری میں ایچ آئی وی کا ابتدائی ٹیسٹ پی سی آر کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ نمونے مزید تصدیق کے لیے سی ڈی سی بھیجے جاتے ہیں۔ وہاں مختلف تشخیصی کٹس کے ذریعے دوبارہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور تقریباً 15 روز بعد مریض کو دوبارہ بلا کر تصدیقی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر دوسری بار بھی نتیجہ مثبت آئے تو مریض کو ایچ آئی وی پازیٹو قرار دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالونی کے مقامی نمائندوں اور علاقے کی سیاسی قیادت نے مل کر ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 9 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم غیر مرتب شدہ معلومات کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے جن کی مکمل تفصیلات سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکیں۔ انہوں نے کہا ہم تقریباً روزانہ اسپتال کا دورہ کرتے ہیں، لیکن ہمیں بہت کم ہی کوئی جواب ملتا ہے۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے کمشنر ہادی بخش کلہوڑو نے پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے واقعے کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات مکمل کر لی ہیں، تاہم رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد اس وقت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو عہدے سے ہٹا کر معطل بھی کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ بچوں کو فراہم کی جانے والی اینٹی ریٹرو وائرل ادویات سی ڈی سی کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ ادویات بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم بعض ادویات کی میعاد ختم ہونے میں صرف دو سے تین ماہ باقی ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ایکشن لیا۔
دوسری جانب انفیکشن ڈیزیز کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میر باقاعدگی سے اسپتال کا دورہ کرتی ہیں، جہاں وہ متاثرہ بچوں کا معائنہ، علاج کی تجویز اور ادویات کی نگرانی کرتی ہیں تاکہ علاج کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب اسپتال کے قائم مقام میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہر حسین نے اپنے دفتر میں ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو عالمی معیار کے مطابق علاج ملنا چاہیے اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی لاک والی سرنجوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے کیونکہ غیر محفوظ طریقے سے سرنجوں کا دوبارہ استعمال ایچ آئی وی سمیت دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایچ آئی وی انسانی مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔ اگرچہ اس وائرس کا مکمل علاج موجود نہیں تاہم بروقت تشخیص اور باقاعدہ ادویات کے ذریعے مریض ایک معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔
سرنجوں، سوئیوں، نس میں لگائے جانے والے ڈرِپ اور کینولاز کا دوبارہ استعمال، آلودہ یا مناسب طریقے سے جراثیم سے پاک نہ کیے گئے طبی آلات کا استعمال، اور بغیر جانچ شدہ خون کی منتقلی صحت کے اداروں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
دریں اثناء ذرائع کے مطابق سوشل سیکیورٹی نظام کے تحت رجسٹرڈ ملازمین کی تنخواہوں سے ہر ماہ تقریباً 8 فیصد کٹوتی کی جاتی ہے جو سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے فنڈ میں جمع ہوتی ہے۔ اسی فنڈ سے مستحق مریضوں سمیت متاثرہ بچوں کے علاج کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل