Friday, July 03, 2026
 

علی خامنہ ای کی 4 روزہ تجہیز و تکفین اعلان کردہ دن سے پہلے ہی شروع ہوگئی

 



ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا آغاز 4 جولائی سے 9 جولائی تک جاری رہنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بیرون ملک سے آنے والے اعلیٰ سطح کے وفد کے باعث ایک دن پہلے ہی سے آغاز ہوگیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاکستان سے معزز مہمان گرامی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ پہنچے۔ اعلیٰ حکام سے تعزیتی ملاقات کے بعد شہید سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو خراج عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ اس طرح شہید علی خامنہ ای کی تکہیز و تکفین کا آغاز شیڈول سے پہلے ہی ہوگیا جو شیڈول کے مطابق 8 جولائی تک جاری رہے گی۔ جس دن انھیں مشہد میں سپرد خاک کیا جانا ہے۔ اس سے قبل ایران و عراق کے چار مقدس شہروں میں میت کو جلوس کی صورت لے جایا جائے گا۔ اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ تجہیز و تکفین کی مرکزی تقریب کا آغاز جمعے کی شام سے شروع کیا جائے گا۔ تاہم غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے باعث امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تعزیتی تقریبات کا آغاز صبح سے ہی کر دیا گیا۔ پاکستانی وفد کے علاوہ افغانستان سے طالبان حکومت کے سینئر نمائندے، چین سے اعلیٰ سرکاری حکام، بھارتی نمائندے اور روس کے سابق صدر سمیت روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف کی قیادت میں اعلیٰ وفد بھی تہران پہنچا۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف مہرآباد ہوائی اڈے پر مختلف ممالک سے آنے والے سرکاری وفود کا استقبال کر رہے ہیں جنھیں بعد ازاں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ لے جایا جا رہا ہے۔ آرمینیا کے وزیراعظم سمیت متعدد اسلامی اور پڑوسی ممالک کے سربراہان نے بھی تجہیز و تکفین کی تقریبات میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ غیرملکی وفد کے تہران آمد کا سلسلہ آج رات بھر بھی جاری رہے گا۔ ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق 100 سے زائد ممالک نے کسی نہ کسی سطح پر اپنے نمائندے بھیجنے کی اطلاع دی ہے جبکہ تقریباً 30 ممالک کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفود تہران پہنچ رہے ہیں یا پہنچ چکے ہیں۔ خیال رہے کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین 4 تا 8 جولائی تک جاری رہے گی۔ جس میں 4 سے 6 جولائی تک دارالحکومت تہران میں امام خمینی گرانڈ مصلیٰ میں عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ اس کے بعد 7 جولائی کو علی خامنہ ای کا جسد خاکی ایران کے مقدس شہر قم لے جایا جائے گا۔ جہاں دیدار اور تعزیتی اجلاس منعقد ہوں گے۔ جہاں سے اگلے روز یعنی 8 جولائی کو جسدخاکی جلوس کی صورت عراق کے شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا اور جہاں عوام اپنے محبوب لیڈر کا آخری دیدار کریں گے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو 9 جولائی کو واپس ایران لایا جائے گا اور تدفین ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کی عسکری قیادت اور اپنے قریبی رشتہ داروں سمیت شہید ہوگئے تھے۔          

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل