Loading
جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور سماجی تنہائی ایک سنگین قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی کی پہلی جامع رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تنہا رہنے والے 76 ہزار 941 افراد اپنے گھروں میں مردہ پائے گئے جن میں زیادہ تر بزرگ شہری شامل تھے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ اموات ان 2 لاکھ 4 ہزار 562 لاشوں کا تقریباً ایک تہائی ہیں جنھیں گزشتہ سال پولیس نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی تحویل میں لیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 58 ہزار 919 افراد تنہائی میں گھروں کے اندر مردہ پائے گئے جو 2024ء کے مقابلے میں 875 زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 28 ہزار 398 افراد کی لاشیں موت کے روز یا اگلے دن دریافت کر لی گئیں جبکہ 15 ہزار 865 افراد کی لاشیں دو سے تین روز بعد اور 10 ہزار 456 کی لاشیں چار سے سات دن کے اندر ملیں۔
اس کے برعکس 22 ہزار 222 افراد ایسے تھے جن کی لاشیں آٹھ یا اس سے زیادہ دن گزرنے کے بعد برآمد ہوئیں جو مجموعی تعداد کا تقریباً 29 فیصد بنتی ہے۔
جاپانی حکومت ایسے واقعات کو "کودوکوشی" (Kodokushi) یا "تنہائی میں موت" قرار دیتی ہے۔
یہ اصطلاح ان افراد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اکیلے رہتے ہوئے انتقال کر جاتے ہیں اور کئی دن یا ہفتوں تک کسی کو ان کی موت کا علم نہیں ہو پاتا۔
خیال رہے کہ جاپان میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی، عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ، چھوٹے خاندانی نظام، شادیوں میں کمی اور اکیلے رہنے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے جو دنیا میں عمر رسیدہ آبادی کی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
حکومت نے حالیہ برسوں میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں تنہا رہنے والے بزرگوں کی باقاعدہ نگرانی، مقامی کمیونٹی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، سماجی رابطوں کے پروگرام، رضاکارانہ دورے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز شامل ہیں۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں سماجی تنہائی ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی سماجی اور معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل