Loading
لاہور میں خاتون کی جانب سے موٹرسائیکل سوار شخص پر فائرنگ کرنے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تاہم جب تحقیقات کی گئیں تو یہ ویڈیو جعلی نکلی۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے پھیلی جس میں ایک خاتون مبینہ طور پر سڑک پر موٹرسائیکل سوار شخص پر پستول تان کر فائرنگ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو کو مختلف کیپشنز کے ساتھ شیئر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ لاہور میں پیش آیا۔
تاہم تحقیقات میں پنجاب پولیس اور فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔
ویڈیو میں چہروں کی حرکات، روشنی، آواز اور بعض مناظر میں ڈیجیٹل ردوبدل کے آثار پائے گئے۔ پولیس کے مطابق لاہور میں ایسا کوئی تصدیق شدہ واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
ویڈیو کو گمراہ کن معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایسی ویڈیوز میں اکثر اے آئی کی نشانیاں شامل ہوتی ہیں جیسے کہ ہونٹوں اور آواز میں معمولی عدم مطابقت۔ ہاتھوں یا انگلیوں کی غیر فطری حرکت، سائے اور روشنی میں بے قاعدگی، پس منظر میں دھندلاہٹ یا عجیب تبدیلیاں اور فائرنگ کے اثرات کا غیر حقیقی نظر آنا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل