Loading
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے زیادتی کرنے والے ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوگیا ہے۔ زیادتی کرنے والے ملزمان میں نواز بھی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزم نواز نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور ملزم نواز کے اکسانے پر دیگر ملزمان نے بھی زیادتی کی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ تفتیش کا حصہ بنا دی گئی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا زیادتی کیس میں ان کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق غیر ملکی خواتین کے گاڑی سے فرار سے قبل ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ جنوبی چھاؤنی پولیس نے شہری عثمان کے بیان پر درج کیا ہے۔
شہری عثمان کے مطابق اس کی گاڑی کو ہٹ کر کے 3 لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ حادثہ یکم جولائی کو پونے 8 بجے ائیرپورٹ کے قریب پیش آیا تھا۔
واضح رہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق رکھنے والے ملزم کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جیسا دوسرے ملزمان کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا نہیں بنتا، اس لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اندر قائم ریپ سیل اس مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے، اسی وجہ سے سی سی ڈی اس کیس میں شامل نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل