Tuesday, July 07, 2026
 

وفاقی کابینہ نے تین سال کے لیے حج پالیسی کی منظوری دے دی

 



وفاقی کابینہ نے تین سال کی حج پالیسی اور پلان برائے 2027-2030 کی منظوری دے دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ کو حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی حج پالیسی گزشتہ ایک سالہ حج پالیسیوں کے برعکس پہلی چار سالہ حج پالیسی اور پلان پر مشتمل ہے اس حج پالیسی کے تحت طویل مدتی پلاننگ، آپریشنز میں بہتری اور حاجیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی، مجوزہ پالیسی کے نفاذ کے لیے ایس او پیز اور دیگر ضوابط بنائے جائیں گے۔ پالیسی کو سعودی قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کی جا سکیں گی۔ مزید بتایا گیا کہ پالیسی کے تحت حج کے خواہش مند افراد سالانہ رجسٹریشنز کی بجائے 2030ء تک کسی بھی سال کیلئے اپنی ضرورت کے مطابق بلاتعطل حج کی رجسٹریشن کروا سکیں گے اس کے نتیجے میں ترجیحی ویٹنگ لسٹ مرتب کی جائے گی  اسکے ساتھ ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق سیونگ اسکیم بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جس کے تحت حج کے خواہاں لوگ مستقبل میں حج کیلئے سیونگ اسیکم سے مستفید ہو سکیں گے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حج کے تمام تر نظام کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے جس میں ادائیگیاں بھی ڈیجیٹل نظام سے ہوں گی  اسکے علاوہ شکایات کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل نگرانی ہوگی۔ پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیوٹ حج کا کوٹا مختص کیا گیا ہے، پالیسی کے تحت لانگ اور شارٹ حج پروگرام متعارف کروائے جار ہے ہیں جبکہ حجاج کرام کی ضروری تربیت اور تکافل و ہنگامی ریسپانس بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ معاونین حج کی تقرری ایک شفاف نظام اور خالصتاً  میرٹ پر جائے، مزید برآں پرائیوٹ و سرکاری حج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے شہریوں کو علاج و معالجے کی معیاری سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد میں موجود آئیسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشئس ٹریٹمنٹ سینٹر (IHITC) اور ریجنل بلڈ سینٹر (RBC) کی سروسز کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی منظوری دے دی۔ فیصلے کے بعد وزارت قومی صحت ان اسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائے گی۔ وفاقی کابینہ کو وزیرِ ریلوے کی جانب سے پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو وزیر ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن 2024-25 میں 95 ارب بڑھ کر  گزشتہ مالی سال 2025-2026 میں 115 ارب روپے کو عبور کر گئی جو کہ 24.19 فیصد اضافہ ہے۔ فریٹ آمدن میں 8 ارب سے زائد، دیگر آمدن میں 7 ارب سے زائد، پراپرٹی و لینڈ آمدن میں 6 ارب سے زائد اور مسافروں کی آمدو رفت سے آمدن میں 3.37 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ریلوے آپریشنز میں بہتری کے ساتھ ساتھ فریٹ کارگو کی آمد و رفت کی بہتری یقینی بنائی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور انکی ٹیم کی تعریف کی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 19 مئی 2026ء اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 جولائی 2026 کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل