Loading
صوبائی اینٹی کرپشن کے اسپیشل جج امین الدین صدیقی نے بی آر ٹی ییلو لائن میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
صوبائی اینٹی کرپشن عدالت کے روبرو بی آر ٹی ییلو لائن میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
سندھ حکومت کی جانب اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ اسپیشل پبلک پراسکیوٹر نے موقف دیا کہ ضمیر عباسی کو ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
وکیل صفائی میاں اشفاق نے موقف دیا کہ اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ ایڈوانس مٹیریل نہیں خریدا جاسکتا ہے۔ ضمیر عباسی کا موقف ہے کہ مٹیریل کی ایڈوانس خریداری کرسکتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جو ٹرمز اینڈ کنڈیشن طے ہوئی تھیں، کیا وہ پیمنٹ کی ادائیگی سے پہلے پوری ہوئی تھیں۔ وکیل صفائی نے موقف میں کہا کہ بالکل تمام ٹرمز اینڈ کنڈیشن پوری ہوئی تھی تاہم یہ بات ثابت کرنا پراسکیویشن کا کام ہے۔
ضمیر عباسی نے کیا خلاف ورزی کی ہے پراسکیویشن بتائے۔ کیا اینٹی کرپشن یا سی ایم آئی ٹی نے کسی سائٹ کی انسپیکشن کی تھی، مٹیریل دیکھا تھا۔
عدالت نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ ہمارے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے رہے۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ 60 فیصد فنڈنگ ورلڈ بینک کی ہے، 20 فیصد سندھ حکومت اور 20 فیصد پبلک پرائیویٹ فنڈز فراہم کیئے جائیں گے اس منصوبے کے لیے۔ آپ اپنی بات بتائیں پیمنٹ ریلیز کی گئی تھی یہ نہیں تین دفعہ پوچھا ہے نہیں بتایا گیا۔ ہم سے جو سوالات پوچھے جارہے ہیں وہ پراسکیویشن سے پوچھے جانے چاہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جو پیمنٹ ریلیز ہوئی تھی وہ کسی کوڈل فارمیلٹی کے بغیر کی گئی ہیں۔ کیا پیمنٹ ریلیز کرنے سے پہلے بینک گارنٹی لی گئی تھی۔
وکیل صفائی نے موقف دیا کہ بالکل بینک گارنٹی لی گئی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر گورنمنٹ کا دباؤ ہوگا کہ جلدی کام کریں تو کیا غیر قانونی کام کرتے جائیں گے۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ جس طریقے سے ضمیر عباسی کام کررہے تھے، اسی طریقے سے اب بھی کام جاری ہے، اسی کنٹریکٹر کے ساتھ۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا کسی کے ٹریپ میں پھنس گئے ہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ نشانہ کوئی اور تھا، ضمیر عباسی اب جیل میں ہیں۔ ملک کے سینکڑوں پروجیکٹس میں اسی طرح سے کام ہورہا ہے۔ ورلڈ بینک کی پیمنٹ ریلیز ہوئی ہے، ملک کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کنسلٹنٹ کی منظوری کے بغیر پیمنٹ کی گئی ہے۔ کیا پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سارے اختیارات حاصل ہیں کیا وہ چیف منسٹر ہیں۔ وکیپ صفائی نے موقف دیا کہ ہم سیمنٹ اور سریے کے لیے پیمنٹ کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ورلڈ بینک کے خطوطِ میں ملک کی مبینہ طور پر بے عزتی ہوئی ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی انکوائری کی ہے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ اینٹی کرپشن نے کوئی انکوائری نہیں کی ہے سی ایم آئی ٹی نے انکوائری کی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو اس کیس میں اسپیشل پبلک پراسکیوٹر لایا گیا ہے بڑے کھلاڑی ہوں گے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ سی ایم آئی ٹی رپورٹ کی کیا کوئی قانونی حیثیت ہے؟
عدالت نے اینٹی کرپشن کورٹ کے سرکاری وکیل کو طلب کرلیا۔ عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ کی انکوائری کے بعد اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر ہوسکتی ہے؟ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ 1993 کے رولز میں ہے کہ وزیر اعلیٰ کو اختیار ہے کسی بھی معاملے کی انکوائری کرواسکتے ہیں۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ضمیر عباسی نے رولز فالو نہیں کئے، نیسپاک سے پیمنٹ کی منظوری نہیں لی گئی۔ انوسٹیگیشن چل رہی ہے اگر عدالت ملزم کو ضمانت دیتی ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس کام کے لئے آپ کو اسپیشل اے پی جی بناکر بھیجا گیا ہے پہلے ہی بتا دیتے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ میں سننا چاہتا تھا کیسے ہوتا ہے۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ہم آپ کو یہاں سنانے کے لیے بیٹھے ہیں۔ عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی ضمانت مسترد کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل