Loading
اسمارٹ فونز کے دور میں، جہاں ہر تصویر چند لمحوں میں کھینچ کر ایڈٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جاتی ہے، وہیں ایک پرانی ٹیکنالوجی ایک بار پھر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ فلم اور ڈیجیٹل کیمرے، جو کبھی 1990 اور 2000 کی دہائی کی یادگار سمجھے جاتے تھے، اب جین زی کی پسندیدہ اشیا میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ کیمرے اب ساحلِ سمندر کی سیر، سالگرہ کی تقریبات، موسیقی کے کنسرٹس، روڈ ٹرپس، شادیوں اور یہاں تک کہ دوستوں کے ساتھ عام ملاقاتوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون میں موجود ہزاروں تصاویر کے برعکس فلم یا ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی ہر تصویر سوچ سمجھ کر کھینچی جاتی ہے، اس لیے اس کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جین زی کے لیے یہ کیمرے صرف تصاویر محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ لمحے کو بھرپور انداز میں جینے کا ایک طریقہ بھی ہیں۔ چونکہ ایک فلم رول میں صرف 27 یا 36 تصاویر لینے کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے ایک ہی سیلفی کی درجنوں تصاویر بنانے یا ہر تصویر کے بعد اسکرین پر نتیجہ دیکھنے کی عادت ختم ہو جاتی ہے۔ تصویر لینے کے بعد کیمرہ بند کر دیا جاتا ہے اور لوگ دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اس تجربے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تصویر فوراً دیکھنے کے بجائے کئی دن یا بعض اوقات کئی ہفتوں بعد سامنے آتی ہے، جس سے تجسس اور انتظار کا احساس برقرار رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین استعمال کرنے والی نسل کے لیے فلم فوٹوگرافی صبر اور لمحوں سے حقیقی لطف اندوز ہونے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رجحان اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ گزشتہ چند برسوں سے جین زی پرانی اور نوسٹالجک چیزوں کی طرف دوبارہ متوجہ ہو رہی ہے۔ ونائل ریکارڈز، فلیپ فون، تار والے ہیڈ فون اور 2000ء کی دہائی کے پوائنٹ اینڈ شوٹ ڈیجیٹل کیمرے بھی دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں، جبکہ ان کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسی رجحان کے باعث فلم کیمرے بھی نوجوانوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان سے لی گئی تصاویر میں موجود ہلکی دھندلاہٹ، فلیش کا منفرد انداز، غیر متوقع روشنی اور دانے دار ساخت انہیں مصنوعی خوبصورتی کے بجائے قدرتی اور حقیقی احساس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید اسمارٹ فون کیمروں کی انتہائی واضح تصاویر کے باوجود بہت سے نوجوان اب نسبتاً نرم، غیر مکمل اور حقیقت سے قریب تر تصاویر کو زیادہ پسند کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل