Loading
پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کیلیے انسانی اسمگلروں نے ڈنکی کیلیے تین نئے راستے تلاش کرلیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈنکی کے پرانے راستوں پر سخت پابندیوں کے بعد انسانی اسمگلروں نے ملائیشیا، آذربائیجان، مصر،ازبکستان، بیلاروس کے لیے 3 نئے روٹس تلاش کیے ہیں۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق پکڑے جانے والے انسانی اسمگلروں نے نئے روٹس بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ انسانی اسمگلرز پاکستانیوں کو ویزے پر ملائیشیا لے جاتے ہیں پھر سے وہاں سے مصر،لیبیا اور پھر یورپ میں داخل کرایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈنکی لگانے کا دوسرا نیا روٹ ازبکستان سے ہوکر جاتا ہے، جس کے لیے انسانی اسمگلر پاکستانی نوجوانوں کو ویزا لگوا کر پہلے ازبکستان لے جاتے ہیں پھر وہاں سے بیلا روس اور پولینڈ میں داخل کروایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولینڈ سرحد دشوار گزار زمینی راستے کے ذریعے پار کرائی جاتی ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق انسانی اسمگلر تیسرے روٹ میں نوجوانوں کو موریطانیہ اور سینیگال بلوا کر کشتیوں پر نوجوانوں کو اسپین کے نیم خودمختار جزیروں پر پہنچاتے ہیں پھر کینری آئی لینڈز سے نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر اسپین لے جایا جاتا ہے۔
اسپین کے کینری آئی لینڈز افریقی ساحل سے محض 100 کلومیٹر دور ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے روٹس کے انکشاف پر ان ممالک میں جانیوالے شہریوں کی اسکریننگ سخت کردی گئی ہے جبکہ اہف آئی اے ان ممالک کو جانیوالے نوجوانوں سے خصوصی تفتیش کرتا ہے،۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈنکی کا شک پڑنے پر ایسے نوجوانوں کو آف لوڈ کردیا جاتا ہے اور اب تک درجنوں نوجوانوں کو آف لوڈ کیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل