Loading
فرانس کی پارلیمنٹ نے بچوں کی صحت اور سلامتی کے حوالے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے پیش نظر 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا قانون منظور کرلیا اور یہ قانون بنانے والا پہلا یورپی ملک بن گیا۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے جونیر وزیر اے آئی اینے لے ہنینف نے کہا کہ فرانس یورپ میں ڈیجیٹل میچورٹی اپنانے والا پہلا ملک بن کر اس عمل کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔
فرانس کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی نے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا قانون منظور کیا جہاں سینیٹ میں اس کے حق میں 243 اور مخالفت میں 2 ووٹ آئے اور قومی اسمبلی میں 279 ارکان نے حق میں اور 81 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائر کرنے والا یورپ میں پہلا ملک بن گیا ہے جبکہ دنیا میں اسے پہلےآسٹریلیا گزشتہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر فیس بک، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے استعمال پر پابندی عائد کرچکا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں یہ قانون اگلے سال کے تعلمی سیشن کے آغاز پر نافذ ہوجائے، میکرون نے رواں برس اپریل میں نوجوانوں پر زور دیا تھا کہ وہ بہترین شہری بننے کے لیے فون بند کریں اور مطالعہ کریں۔
رپورٹ کے مطابق یہ قانون نئے بنائے جانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے ستمبر کے تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ العمل ہوگا جبکہ اس تاریخ سے پہلے بنائے گئے اکاؤنٹس کے لیے اس کا اطلاق جنوری کے آغاز سے ہوگا۔
مذکورہ قانون کے تحت ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ہے اور قانون کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے فرنچ پرائیویسی ریگیولیٹر کی جانب سے عمر کی تصدیق بھی درکار ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل