Tuesday, July 21, 2026
 

ٹالسٹائی، ہیمنگ وے اور آصف فرخی کے ہاں جنگ کی معنویت

 



کہتے ہیں کہ ایک شام روس کی برف پوش زمین پر توپوں کی گھن گرج تھم چکی تھی، مگر جنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔ میدان میں لاشیں تھیں، زخمیوں کی کراہیں تھیں، گھوڑوں کی ٹوٹی ہوئی لگامیں تھیں اور آسمان پر ایک عجیب بے نیازی پھیلی ہوئی تھی۔ ٹالسٹائی کے’’ جنگ اور امن‘‘ کا شہزادہ آندرے بولکونسکی جب آسترلٹز کے میدان میں زخمی پڑا آسمان کو دیکھتا ہے تو پہلی بار اسے معلوم ہوتا ہے کہ نپولین، فتوحات، جھنڈے، تمغے، سلطنتیں،سب کتنے چھوٹے ہیں اور نیلا آسمان کتنا وسیع۔ یہ لمحہ محض ایک زخمی سپاہی کا لمحہ نہیں، یہ پوری انسانی تہذیب کا لمحہ انکشاف ہے۔ جنگ کے عین مرکز میں انسان کو پہلی بار امن کی حقیقت دکھائی دیتی ہے۔ یہی ٹالسٹائی کا کمال ہے کہ وہ جنگ کو جنگی منظر نہیں رہنے دیتا، اسے روح کے مکاشفے میں بدل دیتا ہے۔ جنگ جب اخبار میں آتی ہے تو تعداد بن جاتی ہے، جب تاریخ میں آتی ہے تو فتوحات اور شکستوں کا حساب، مگر جب ادب میں آتی ہے تو انسان کے اندر کی شکست کا نام بن جاتی ہے۔ ادب کا منصب توپ کی آواز بلند کرنا نہیں بلکہ اس آواز کے بعد پیدا ہونے والی خاموشی کو سننا ہے۔ جنگ کا ادبی سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر کیا ٹوٹا، کیا بچا اور کیا ایسا تھا جو مر کر بھی زندہ رہا۔ ٹالسٹائی کے لیے جنگ تاریخ ساز افراد کا کھیل نہیں۔’’جنگ اور امن ‘‘میں نپولین ایک عظیم فاتح سے زیادہ ایک فریب خوردہ کردار ہے، جو اپنے ارادے کو تاریخ سمجھ بیٹھا ہے۔ ٹالسٹائی تاریخ کو بادشاہوں، جرنیلوں اور فاتحین کے ہاتھ سے چھین کر بے شمار عام انسانوں کے حوالے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں جنگ ایک عظیم الشان واقعہ نہیں بلکہ لاکھوں چھوٹی انسانی تقدیروں کا انتشار ہے۔ پیئر بیزوخوف، نتاشا، آندرے، نکولائی،یہ سب جنگ کے باہر بھی جنگ میں مبتلا ہیں۔ ٹالسٹائی بتاتے ہیں کہ جنگ صرف میدان میں نہیں ہوتی، گھر کے کمروں، دل کے گوشوں، خوابوں اور پچھتاووں میں بھی جاری رہتی ہے۔ یہاں جنگ کی معنویت اخلاقی ہے۔ ٹالسٹائی جنگ کو رومان نہیں بناتے۔ وہ توپ، تلوار، گھوڑے اور جرنیل دکھاتے ہیں، مگر ان کی اصل توجہ اس نقطے پر رہتی ہے جہاں انسان اپنی خود فریبی سے ٹکراتا ہے۔ آندرے کے لیے جنگ عظمت حاصل کرنے کا راستہ تھی، مگر میدانِ جنگ میں اسے عظمت کی بے معنویت کا پتہ چلتا ہے۔ پیئر کے لیے جنگ ایک نظریاتی اضطراب ہے؛ مگر ماسکو کی آگ اور قید کے تجربے میں وہ انسان کی سادہ نیکی تک پہنچتا ہے۔ ٹالسٹائی کے ہاں جنگ بالآخر اس سوال پر لا کھڑا کرتی ہے۔انسان طاقت سے بڑا ہے یا رحم سے؟ تاریخ تلوار سے بنتی ہے یا ضمیر سے؟  ہیمنگ وے کے ہاں جنگ کا رنگ مختلف ہے۔ ’’فیئر ویل ٹو آرمز‘‘ یعنی ’’وداعِ جنگ‘‘ پہلی جنگ عظیم کے اطالوی محاذ کے پس منظر میں لکھی گئی، اس کا مرکزی کردار فریڈرک ہنری ایک امریکی رضاکار ہے جو اطالوی فوج کی ایمبولینس سروس میں لیفٹیننٹ کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے اور کیتھرین بارکلے سے اس کی محبت جنگ کے شور میں جنم لیتی ہے۔ یہ ناول 1929ء میں شائع ہوا اور پہلی جنگ عظیم کے اہم امریکی جنگی ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل