Wednesday, July 22, 2026
 

پاکستان، قطر اور مصر کی بڑی سفارتی کوشش، امریکا اور ایران کو 10 روزہ جنگ بندی کی پیشکش

 



واشنگٹن / دوحہ: امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر، پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، تاہم تاحال کسی بھی فریق نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ان کے سامنے دو بڑے راستے موجود ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ محدود مدت کی 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو سکے اور سفارتی مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔ دوسرا راستہ یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کرے تاکہ تہران پر مزید دباؤ ڈال کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی ایک آپشن پر حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم امریکی حکام کا خیال ہے کہ آئندہ چند دن اس بات کا تعین کریں گے کہ واشنگٹن کس حکمت عملی کو اختیار کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ قطر، پاکستان، مصر اور دیگر ممالک نے دونوں فریقوں کے سامنے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز رکھی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ابھی تک نہ امریکا اور نہ ہی ایران نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی سے پہلے اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل کئی روز کی فوجی کارروائیوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل ایران کے آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس کے باعث جنگ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ادھر امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے باعث اندرونِ ملک بھی جنگ کے خلاف ردعمل بڑھنے لگا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایگزیوس کے مطابق ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کے روز جنگ بندی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی تھی، تاہم اردن میں ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن نے اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم امریکا اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور صدر ٹرمپ جب تک مناسب سمجھیں گے، فوجی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ ایران کو نہ مکمل طور پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی شرائط یکطرفہ طور پر مسلط کر سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل