Wednesday, July 22, 2026
 

زیلنسکی کا بڑا فیصلہ، یوکرین کے آرمی چیف برطرف، نئی عسکری قیادت سامنے آ گئی

 



یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے فوج کے کمانڈر اِن چیف اولیکسینڈر سرسکی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ میخائیلو ڈراپاتی کو نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل یوکرین کے وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ وزیر دفاع فیڈوروف اور سابق آرمی چیف سرسکی کے درمیان اختلافات موجود تھے، تاہم بعد میں میڈیا رپورٹس میں ان اختلافات کی تصدیق بھی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق 60 سالہ اولیکسینڈر سرسکی کو یوکرین کی فوج میں ایک ایسے کمانڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو سوویت دور کی عسکری سوچ کے حامی تھے اور فوجی اصلاحات کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھتے تھے۔ ان کی جگہ تعینات کیے جانے والے میخائیلو ڈراپاتی کو ایک تجربہ کار اور جنگی محاذ پر خدمات انجام دینے والے مقبول فوجی افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کی تقرری کو یوکرینی فوج میں اصلاحات اور نئی حکمت عملی کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی نے منگل کی شب اپنے ویڈیو پیغام میں اولیکسینڈر سرسکی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز پر دارالحکومت کیف کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ زیلنسکی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف سے ملاقات کی ہے اور انہیں حکومت میں ایک باوقار عہدہ سنبھالنے کی پیشکش کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا انہوں نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ ان تمام فیصلوں کو باضابطہ قانونی شکل اگلے روز دی جائے گی۔ سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یوکرینی فوج کی اعلیٰ قیادت میں یہ تبدیلی مستقبل کی فوجی حکمت عملی اور دفاعی پالیسی پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل