Loading
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین سمیع اللہ خان نے قومی کھیل کی بحالی کے لیے موجودہ انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سالہا سال کے زوال کو ختم کرنے کے لیے کم از کم دو سے تین سال کی مسلسل محنت درکار ہوگی، شائقین اور میڈیا نتائج کے لیے صبر کا مظاہرہ کریں۔
چیئرمین سیلیکشن کمیٹی فلائنگ ہارس اولمپین سمیع اللہ خان نے کہا کہ پی ایچ ایف کی موجودہ انتظامیہ پی ایچ ایف صدر محی الدین احمد وانی کی سرپرستی میں ہاکی کو دوبارہ عروج بام پر واپسی کے لیے عملی اور مخلصانہ اقدامات کر رہی ہے۔ پی ایچ ایف کی جانب سے انڈر 18، انڈر 21 اور سینئر اسکواڈز کو دوبارہ فعال کر کے نیا ٹیلنٹ سامنے لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں قومی ٹیموں کو یکساں کیمپ، جدید سہولیات اور مکمل مالی و اخلاقی سپورٹ دی جا رہی ہے۔ جبکہ بین الاقوامی معیار کے کوچز کی خدمات کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے جی پی ایس (GPS) جیسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے۔قومی کھلاڑیوں کی رہائش، لاجسٹکس اور دیگر سہولیات کے معیار میں واضح بہتری لائی گئی ہے۔
عوام اور کھیل سے وابستہ حلقوں کی توقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہاکی کی بحالی راتوں رات ممکن نہیں۔ یہ ایک طویل البنیاد عمل ہے۔ فوری نتائج کی توقع رکھنے کے بجائے ہمیں عمل پر نظر رکھنی ہوگی۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ فیڈریشن بالکل درست سمت میں گامزن ہے اور ان کی کوششیں جدید اور مثبت ہیں۔
انہوں نے میڈیا، شائقینِ ہاکی اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ قومی کھلاڑیوں اور فیڈریشن انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ بنیادی سطح پر کی جانے والی اس محنت کے شیریں نتائج جلد قوم کے سامنے آسکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل