Loading
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز سے درپیش ممکنہ خطرات کے باعث نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آخری لمحے میں اپنا طیارہ تبدیل کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیے سے روانگی کے وقت قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون کے بجائے پرانا صدارتی طیارہ استعمال کریں کیونکہ نئے طیارے میں مخصوص سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔
اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ترکیے سے انگلینڈ کے سفر کے لیے پرانا ایئر فورس ون استعمال کیا جس سے قطر کے تحفے میں ملنے والے طیارے کی سکیورٹی خصوصیات پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران صدر ٹرمپ اور صدارتی طیارہ دونوں ممکنہ خطرات کی زد میں تھے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ اراکین کے ساتھ اجلاس میں ایران کے خلاف حملوں میں مزید شدت لانے یا نہ لانے کے معاملے پر غور کیا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ 7 جولائی کو ترکیے میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئے ایئر فورس ون میں گئے تھے، تاہم واپسی پر انہوں نے پرانا صدارتی طیارہ استعمال کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل