Loading
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں 23 دن کی بچی کا انگوٹھا کٹنے کے واقعے کی انکوائری مکمل ہوگئی جس میں خاتون نرس کو غفلت کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے خاتون نرس کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی کی سفارش کر دی، جبکہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
ہولی فیملی اسپتال میں 23 دن کی بچی کا انگوٹھا کٹنے کے واقعے کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔
انکوائری میں نرس نیلم صدیق کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ انہیں لاہور میں محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہولی فیملی اسپتال ڈاکٹر اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر مقامی تھانے میں واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ اٹک کے رہائشی کارپینٹر قیصر محمود کی 23 روزہ بیٹی اسپتال کی نرسری میں زیرعلاج تھی، جہاں اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل