Wednesday, July 29, 2026
 

وزیراعظم کی تاجروں کے مسائل حل کرنے کیلیے چیئرمین ایف بی آر اور افسران کو خاص ہدایات

 



وزیراعظم شہباز شریف نے تاجروں کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران کو خاص ہدایات جاری کی ہیں۔ ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت  ہوا، جس میں محصولات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کے لیے ایک جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرکے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے نصب شدہ ٹریکنگ نظام فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں چئیرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے تمام تر ضابطوں کی پابندی کرنے اور ٹیکس جمع کروانے والے افراد و کاروبار ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور لائق تحسین ہیں۔ حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے برآمدی اور مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کی اور آئندہ کے لیے بھی کرتی رہے گی۔ وزیراعظم چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران کو ہدایت کی کہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل اور گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام  دسمبرتک فعال بنایا جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ ایف بی آر میں افسران کی جانچ کا نیا نظام لائق تحسین ہے، میرٹ اور شفافیت اولین ترجیح رہے گی۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ یوم آزادی پر انہیں ایوارڈز سے سراہا جا سکے۔ اسی طرح  کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی اور تدارک کے لیے فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ویلیڈیشن کرائی جائے ۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کی جانب سے پیداواری شعبے کے لیے ٹریکنگ نظام کی تنصیب، ایف بی آر میں افرادی قوت کے حوالے سے نافذ کی گئیں اصلاحات اور آپریشنل استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبے میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال جبکہ مزید 5 شعبوں میں نفاذ حتمی مراحل میں ہے، جس کی ٹیکس استعداد 7 سو ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 9 پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام وضع کرنے اور اس کے نفاذ کے لیے شعبوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے جس کی بدولت 560 ارب روپے کے ٹیکس کی استعداد کار سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبے میں بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ٹریکنگ نظام کے نفاذ کو رواں برس کے اختتام تک یقینی بنایا جائے. افرادی قوت کے حوالے اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افسران کی بھرتی کے وقت ان کی ٹریننگ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی سے کرائی جارہی ہے جس میں میرٹ اور اچھی کارکردگی کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حاضر افسران کی ٹریننگ بھی کروائی جارہی ہے. ٹریننگ ماڈیولز بین الاقوامی معیار اور پاکستان کے ٹیکس نظام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیئر ریویو اور جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو میں اہم پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل افراد کی تعیناتی یقینی بنائی جارہی ہے۔ ایف بی آر میں ایسے افسران و اہلکار جن کی کارکردگی بہتر ہے ان کی پزیرائی اور خراب کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی سزا کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کی تعیناتی ہو چکی ہے. جبکہ کسٹمز کے فیس-لیس نظام کے تحت 280 گڈز ایویلوایٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جس میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ فیس لیس نظام کے ذریعے نہ صرف سامان کی ترسیل و آمد کے لیے درکار وقت میں کمی بلکہ ریکوری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جو ٹیکس سے متعلق مقدمات کے اندراج کا فیصلہ میرٹ پر کرے گی۔ اسی طرح متبادل تنازعاتی حل (ADRCs) فورم کے تحت جون 2026 تک 377 درخواستوں میں سے 152 درخواستیں90 روز کے اندر نمٹائے گئے، جس کے نتیجے میں 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل